ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا مطلب شہریت کا خاتمہ نہیں، سپریم کورٹ کاتبصرہ

نئی دہلی: بھارت کی عدالت عظمیٰ نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم اور شہریت کے قانون کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور دور رس نتائج کا حامل زبانی مشاہدہ پیش کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر دہرایا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا جاتا ہے، تو اس کا خود بخود یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ اپنی بھارتی شہریت کھو چکا ہے۔ عدالت نے اپنے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی فرد کی شہریت کی حیثیت کا تعین کرے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق، چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب وہ مغربی بنگال کے اپیلٹ ٹربیونلز میں سماعت کے طریقہ کار کو منظم اور ہموار بنانے سے متعلق ایک پٹیشن پر سماعت کر رہے تھے۔ یہ ٹربیونلز سپریم کورٹ نے رواں سال مارچ میں قائم کیے تھے تاکہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں، وہ اس فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کر سکیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مستند رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ٹربیونلز کے سامنے تقریباً 34 لاکھ اپیلیں زیر التواء ہیں، جن میں سے اب تک صرف 38,000 معاملات کا فیصلہ ہو سکا ہے۔ ان فیصلوں کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیلنج کی جانے والی اپیلوں میں سے کم از کم 70 فیصد کو درست تسلیم کرتے ہوئے نام بحال کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار کے کونسل نے عدالت کے سامنے یہ سنگین معاملہ بھی اٹھایا کہ جب لاکھوں اپیلیں ابھی زیر التواء ہیں، اسی دوران مغربی بنگال حکومت نے ایسے اقدامات کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت ان افراد کو پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (راشن کارڈ) اور دیگر سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے جن کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں۔ وکیل نے بنچ کو مطلع کیا کہ متاثرہ افراد کو کاسٹ سرٹیفکیٹ (ذاتی زمرے کے اسناد) دینے سے بھی انکار کیا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں غریب اور پسماندہ شہریوں کی بنیادی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ وکیل نے یہ دلیل بھی دی کہ اگر کسی شہری کے پاس بھارتی پاسپورٹ موجود ہے تو اسے شہریت کا واضح ثبوت مانا جانا چاہیے، جبکہ حالیہ ہفتوں میں وزارت خارجہ کی جانب سے یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا حتمی ثبوت نہیں۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کو چیلنج کرنے والی دیگر بڑی درخواستوں کے ساتھ یکجا کر کے سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز بھی عدالت عظمیٰ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ہیں، انہیں رعایتی راشن سمیت تمام بنیادی فلاحی فوائد حاصل کرنے کا پورا حق حاصل رہے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس رویے کو اقلیتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی ڈھال قرار دیا ہے۔ رواں سال 27 مئی کو بہار میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے خلاف دائر عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بھی عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کسی کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے انکوائری تو کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں کہ کون بھارتی شہری ہے اور کون نہیں۔ عدالت کا یہ حالیہ مشاہدہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹر لسٹوں سے نام نکالنے کے نام پر مخصوص علاقوں اور برادریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا تھا، اور اس فیصلے سے ان لاکھوں لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے جو بیوروکریسی کے یکطرفہ فیصلوں کا شکار بن رہے تھے۔

شیئر کریں۔