نئی دہلی: راجستھان کے سرحدی اضلاع میں قومی سلامتی کے تحفظ اور تجاوزات کے نام پر اقلیتی برادری کی مذہبی املاک کو نشانہ بنائے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک بڑا اور اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاست میں مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری حالیہ انہدامی کارروائیوں پر دو ہفتوں کے لیے عبوری روک لگا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے متاثرین کو جودھپور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خصوصی ہدایت پر دائر کی گئی ۴۰ متاثرین کی مشترکہ آئینی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق راجستھان کے سرحدی اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت اب تک متعدد مساجد اور مدارس کو زمیں بوس کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباً ۳۵۰ مزید مساجد کو انہدام کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اقلیتی نمائندوں اور مقامی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اس پوری مہم کے دوران دانستہ طور پر صرف مسلمانوں کے مذہبی مقامات، درگاہوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری برادریوں کی ایسی ہی املاک کے خلاف چشم پوشی کی جا رہی ہے۔ اس یکطرفہ کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے قانونی محاذ سنبھالا اور براہ راست ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملک کے ممتاز قانون داں اور سینئر وکیل کپل سبل نے مضبوط دلائل پیش کیے۔ انہوں نے بنچ کو بتایا کہ سرحدی اضلاع میں قانونی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر مکانات اور مذہبی املاک پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے اور اگر عدالت نے فوری طور پر عبوری تحفظ فراہم نہیں کیا تو اقلیتی برادری کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ کسی بھی شہری کی ذاتی یا مذہبی ملکیت کے خلاف انتظامیہ اپنے اختیارات کا یکطرفہ استعمال نہیں کر سکتی اور ہر کارروائی کو فطری انصاف اور آئینی ضمانتوں کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ نے دلائل سننے کے بعد کارروائی پر دو ہفتوں کا اسٹے آرڈر جاری کیا۔ عدالت نے اپنے ۱۳ نومبر ۲۰۲۴ کے تاریخی فیصلے کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن اس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار اور قدرتی انصاف کی پاسداری ناگزیر ہے۔ بنچ نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ متنازع حقائق پر مبنی ہے، اس لیے راجستھان ہائی کورٹ، جودھپور کی ڈویژن بنچ اس کا تفصیلی جائزہ لے کر حتمی فیصلہ صادر کرے۔
عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ تنظیم مساجد، مدارس اور مظلوم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر پوری قوت کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق بہت جلد جودھپور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی تاکہ اس یکطرفہ کارروائی کا مستقل سدباب ہو سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ مہینے ۲۰ جون کو جمعیۃ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے متاثرہ سرحدی علاقوں کا دورہ کر کے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا، جس کے بعد یہ قانونی چارہ جوئی شروع کی گئی۔



