جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے سیاحتی علاقے جئی ویلی (بھدرواہ) میں پولیس فائرنگ کے دوران ایک مقامی شہری کی ہلاکت کے خلاف وادی چناب کے اضلاع میں شدید عوامی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سیرت کمیٹی ڈوڈہ کی اپیل پر پورے ضلع میں مکمل اور پرامن بند رکھا گیا، جہاں مقامی کاروباری مراکز، دکانیں اور آمد و رفت کے ذرائع بند رہے۔ احتجاجی مظاہروں میں شامل شہریوں نے متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کرنے اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اس احتجاجی لہر کی بازگشت پڑوسی ضلع کشتواڑ میں بھی سنی جا رہی ہے۔ جامع مسجد کشتواڑ کے امام مولانا فاروق احمد کیچلو نے جئی ویلی واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 18 جولائی کو ضلع بھر میں مکمل اور پرامن ہڑتال کی اپیل کی۔ انہوں نے تاجروں اور عام عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ہڑتال کو کامیاب بنا کر اپنا پرامن احتجاج درج کروائیں، تاکہ حکومت پر اس بیہمانہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے انتظامیہ نے ڈوڈہ اور کشتواڑ میں مسلسل دوسرے روز بھی موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ تاہم، اب اس بندش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے لیز لائن اور براڈ بینڈ خدمات کو بھی مسدود کر دیا گیا ہے۔ مواصلاتی نظام کے مکمل ٹھپ ہونے سے مقامی بینکنگ نظام، آن لائن کاروباری سرگرمیاں اور سائبر کیفے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ اور آن لائن روزگار سے وابستہ نوجوانوں کو اس اقدام کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انسانی حقوق اور سیاسی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی، میر واعظ کشمیر اور سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر ایم وائی تاریگامی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وقت مقررہ کے اندر شفاف اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 30 سالہ نوجوان کی شناخت عارف حسین کے طور پر ہوئی ہے، جو پیشے سے ڈرائیور تھا اور اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ اہل خانہ کے مطابق متوفی کی اہلیہ آٹھ ماہ کی حاملہ ہیں اور اس اچانک حادثے نے پورے خاندان کو بے سہارا کر دیا ہے۔
دوسری جانب، جموں و کشمیر پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی رات جئی ویلی کے علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع پر ایک ٹیم نے کچھ افراد کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس کے مطابق اس دوران دونوں فریقین کے درمیان جھڑپ ہوئی اور مبینہ طور پر ایک اہلکار کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی گئی، جس کے دوران گولی چلنے سے عارف حسین زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔ پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور متوفی مبینہ طور پر مویشی اسمگلنگ کے معاملے میں ملوث تھا۔ تاہم مقامی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے پولیس کے ان دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔




