جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ ثانویہ میں خوبصورت نعتیہ مجلس کا انعقاد – طلباء کی سحر آفریں آواز سے سماں بندھ گیا
بھٹکل (فکروخبرنیوز) نعت دلوں کی تسکین کا ذریعہ ہے، نعت روح کو سکون پہنچاتی ہے،اخلاص کے ساتھ اگر نعت گوئی کی جاتی ہے تو نعت کہنا نعت پڑھنا دونوں کار ثواب ہوجاتاہے اور اللہ کے یہاں ایسی نعت گوئی کو بڑی قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ آج یکم صفر المظفر 1448ھ مطابق 16 جولائی بروز جمعرات کو جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے شعبہ ثانویہ میں اللجنۃ العربیہ کی طرف سے منعقد نعتیہ مسابقے میں افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے نائب مشرف لجنۃ استاد جامعہ سید احمد سالک ندوی نے انخیالات کا اظہار کیا۔۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں نعت کی مختصر تاریخ اور فن نعت میں مسلم اور غیر مسلم شعراء کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے مختلف مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے اس محفل کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا کرنا اور آپ ﷺ کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا اس طرح کی نعتیہ مجلسوں کے قیام کا اہم مقصد ہوتا ہے۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ اسلامیہ کے شعبہ ثانویہ کے طلباء میں کم و بیش ڈیڑھ سو طلباء نے اس مقابلے میں حصہ لیا تھا، ان میں سے دو جانچ کے بعد 32 طلباء کو منتخب کیا گیا اور حتمی جانچ کے بعد 16 طلبہ کو مقابلے کے لیے منتخب کیا گیا۔اس سلسلے میں جامعہ اسلامیہ کے شعبہ ثانویہ کے بالائی ہال میں ایک خوبصورت نعتیہ مجلس منعقد کی گئی جس میں 15 طلباء نے بہترین انداز میں نعتیں پیش کیں۔
اس مسابقہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس مرتبہ مسابقے کی تمام نعتیں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے فارغین یعنی مقامی علماء کی کہی ہوئی تھیں، جو غلو اور فکری بے احتیاطی سے پوری طرح پاک تھیں۔ مسابقہ کے لیے شہر بھٹکل کے معروف ادیب اور نعت گو نعت حافظ ابو الحسن جوباپو ندوی اور حافظ مولانا زفیف شینگیری کو حکم مقرر کیا گیا تھا دونوں نے اپنی فنی مہارت اور فکری بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔
مشرف لجنۃ جناب مولانا ابراہیم رکن الدین ندوی نے مسابقے کے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے حاضرین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔اس میں اول آنے والے طالب علم سلمان ابن عمران محتشم تھے (سوم عربی )جبکہ دوم آنے والے طالب علم اسعد بن عدنان قاضی ،البتہ شایان کمال اور رائف شیخ دو طلبہ سوم نمبر پر تھے۔ تمام ممتاز مساہمین کو انعامات سے نوازا گیا۔
ثانویہ خامسہ (چہارم عربی) کے طلباء نے پروگرام کی نظامت کی ۔مسابقے کے بعد حاضرین کے اصرار پر جامعہ اسلامیہ کے استاد مولانا زفیف شینگیری ندوی نے اور استاد ثانویہ سید احمد سالک ندوی نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا۔ اس سے پہلے اجلاس کا آغاز درجہ اعدادیہ کے طالب علم حافظ اسماعیل رکن الدین کی تلاوت سے ہوا تھا۔ اجلاس میں ثانویہ کے تمام طلبہ اور اساتذہ موجود تھے۔ صبح 11 بجے خاطر تواضع کے ساتھ یہ مسابقہ اختتام کو پہنچا۔




