ای ڈی کے سمن کے اگلے ہی دن ممتابنرجی کے قریبی ساتھی نے چھوڑی پارٹی

مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر زبردست ہلچل مچ گئی ہے اور حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کے انتہائی قریبی اور وفادار مانے جانے والے سینئر لیڈر اور رکنِ اسمبلی مدن مترا نے بدھ کے روز ان کے دھڑے سے استعفیٰ دے دیا۔ مدن مترا نے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف رتابرتا بنرجی کی قیادت والے باغی دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب محض ایک دن قبل ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ای ڈی) نے بلدیاتی بھرتی گھوٹالے کے سلسلے میں مدن مترا کی اہلیہ اور ان کے دو بیٹوں کو سمن جاری کیا تھا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، مدن مترا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا خاندان مرکزی ایجنسی کی جانچ میں مکمل تعاون کرے گا، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا باغی دھڑے میں شامل ہونے کا فیصلہ ای ڈی کے سمن سے بالکل الگ ہے۔ مدن مترا کو رواں ماہ کے آغاز میں ہی ممتا بنرجی کے دھڑے کا جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ پارٹی میں اب مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل نہیں رہے تھے، اس لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تنظیم کو مضبوط کرنے کے بجائے پوری قیادت اب صرف ابھیشیک بنرجی کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہو چکی ہے اور ٹی ایم سی کسی ایک شخص کی پارٹی نہیں ہے۔

مغربی بنگال میں مسلم اور اقلیتی ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ ٹی ایم سی کا روایتی حامی رہا ہے، لیکن حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کے اندرونی خلفشار نے ان کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ مدن مترا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ممتا بنرجی کے سامنے کئی بار یہ سنگین مسائل اٹھائے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، ابھیشیک بنرجی تمام فیصلے صرف اپنی شرائط پر نافذ کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو کوئی بامعنی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے تنظیم تیزی سے کمزور ہو رہی ہے۔ مدن مترا 2011 سے 2015 کے دوران ممتا حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں اور وہ کمار ہٹی سیٹ سے رکنِ اسمبلی ہیں۔

مئی 2026 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہاتھوں شکست کے بعد سے ٹی ایم سی کے اندر بغاوت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ٹی ایم سی کے 80 میں سے تقریباً 60 ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کر کے رتابرتا بنرجی کو اپنا لیڈر منتخب کر لیا ہے، جنہیں اسپیکر کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف کا درجہ بھی مل چکا ہے۔

پارٹی کے اندر جاری اس شدید ٹوٹ پھوٹ کا اثر صرف ریاستی اسمبلی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ قومی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ جون کے مہینے میں ٹی ایم سی لیڈر کاکولی گھوش دستیدار نے اعلان کیا تھا کہ ٹی ایم سی کے 20 لوک سبھا ارکانِ پارلیمنٹ تریپورہ کی نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی میں ضم ہو کر بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حمایت کریں گے، جس پر ابھیشیک بنرجی نے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کی اپیل کر رکھی ہے۔ اس سے قبل 9 جولائی کو ٹی ایم سی کے تین راجیہ سبھا ارکان نے بھی استعفیٰ دے کر بی جے پی کا دامن تھام لیا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ممتا بنرجی کا سیاسی قلعہ اندرونی انتشار کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔

شیئر کریں۔