جب کاغذ نہیں تھا تو قرآن کیسے محفوظ ہوا؟ مکہ کا یہ میوزیم دیتا ہے حیرت انگیز جواب

مکہ مکرمہ: سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں واقع حرا کلچرل ڈسٹرکٹ کے ‘ہولی قرآن میوزیم’ میں ان دنوں زائرین کے لیے ایک منفرد اور تاریخی تعلیمی نمائش جاری ہے۔ اس عجائب گھر میں جدید انٹرایکٹو ٹیکنالوجی اور ڈجیٹل ڈسپلے کے ذریعے عہدِ نبویؐ کے دوران قرآن مجید کی کتابت، تدوین اور حفاظت کے ارتقائی مراحل کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نمائش کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو اس بات سے روشناس کرانا ہے کہ نزولِ وحی کے ابتدائی دور میں جب کاغذ دستیاب نہیں تھا، تو صحابۂ کرامؓ کس طرح قرآن کریم کی آیات کو مختلف قدرتی اشیاء پر تحریر کر کے محفوظ کیا کرتے تھے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، ہولی قرآن میوزیم میں ان تمام روایتی اور تاریخی اشیاء کی مستند نقول نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جن پر عہدِ رسالت میں وحی الٰہی کو قلمبند کیا جاتا تھا۔ ان نایاب نمونوں میں چمڑے کے پارچمنٹ، کھجور کی شاخیں، لکڑی کے تختے، چوڑے پتھر اور جانوروں کی ہڈیاں، بالخصوص اونٹ یا دیگر حلال جانوروں کے کندھے اور پسلیوں کی ہڈیاں شامل ہیں۔ اسلامی روایات اور تاریخِ تدوینِ قرآن کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی وحی نازل ہوتی تھی، تو آپؐ کاتبینِ وحی کو بلا کر ان اشیاء پر آیات لکھواتے تھے، جنہیں بعد میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ اور خلیفہ سوم حضرت عثمان غنیؓ کے ادوار میں ایک مکمل اور متفقہ مصحف کی شکل میں یکجا کیا گیا۔ عجائب گھر میں ہر تاریخی نمونے کے ساتھ معلوماتی گائیڈ اور وضاحتی بورڈز نصب کیے گئے ہیں تاکہ زائرین اس دور رس عمل کو آسانی سے سمجھ سکیں۔

مسلم امہ اور عالمی ثقافتی ورثے کے نقطہ نظر سے قرآن مجید کی حفاظت کی یہ تاریخ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ نمائش نہ صرف مسلمانوں کے اپنے مقدس ترین صحیفے کے ساتھ گہرے علمی و روحانی تعلق کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ کس طرح چودہ سو سال سے زائد عرصے سے اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ عجائب گھر میں ملٹی میڈیا پریزنٹیشنز اور بصری شواہد کے ذریعے یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ زبانی حفظ کے ساتھ ساتھ تحریری طور پر قرآن کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلمانوں نے کتنی محنت اور احتیاط سے کام لیا، جو کہ انسانی تاریخ کا ایک بے مثال علمی کارنامہ ہے۔

سیاحتی اور مذہبی حکام کے مطابق، یہ میوزیم اب صرف عمرہ اور حج کے لیے آنے والے عازمین ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی محققین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور اسلامی ورثے میں دلچسپی رکھنے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک اہم علمی مرکز بن چکا ہے۔ زائرین کی سہولت کے لیے یہاں دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں آڈیو گائیڈز اور معلوماتی مواد فراہم کیا گیا ہے، جس سے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمان مستند معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اقدام سعودی عرب کی اس موجودہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اپنے مذہبی اور تاریخی مقامات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کر رہا ہے تاکہ نئی نسل اور بین الاقوامی برادری کو اسلامی تاریخ کا حقیقی چہرہ دکھایا جا سکے۔

جدید دور میں جب دنیا ڈجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، کے جی ایم یو اور دیگر تعلیمی اداروں میں تاریخ کو محفوظ کرنے کے ایسے سائنسی طریقے نوجوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حرا کلچرل ڈسٹرکٹ کا یہ ہولی قرآن میوزیم تاریخ، عقیدت اور جدید سائنس کا ایک ایسا حسین امتزاج پیش کرتا ہے جو یہاں آنے والے ہر شخص کو ایک گہرا تعلیمی اور روحانی تجربہ فراہم کرتا ہے اور اسلامی تہذیب کی عظمت کو ایک نئے پیرائے میں اجاگر کرتا ہے۔

شیئر کریں۔