تحریر : عتیق الرحمن ڈانگی ندوی
مغرب کی نماز کے بعد جیسے ہی میں مسجد سے نکلا ، چند نوجوانوں نے مجھے گھیر لیا اور ایس آئی آر کے فارم کے بارے میں سوال کرنے لگے۔ یہ صورتحال صرف میرے محلہ کی نہیں بلکہ ان دنوں شہر کی ہر گلی اور ہر نکڑ پر بس ایک ہی سوال ہے ، ایس آئی آر اور ایس آئی آر ، میں نے انہیں جلد فارم بھرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے آگے بڑھا۔ ابھی مسجد کے احاطے سے پوری طرح باہر بھی نہ نکلا تھا کہ ایک ضعیف بزرگ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ بڑھاپے اور کمزوری نے ان کے قدموں کی رفتار تو سست کر دی تھی، مگر ان کے چہرے پر جھلکتی فکر اور آنکھوں میں نمایاں تشویش صاف بتا رہی تھی کہ وہ کسی اہم بات کے لیے میری طرف آ رہے ہیں
قریب پہنچ کر انہوں نے سلام کیا اور نہایت سنجیدگی سے پوچھا: "بیٹا! فارم بھر لیا؟” میں نے بات کو ٹالتے ہوئے کوئی واضح جواب نہ دیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی، لیکن میری لاپرواہی شاید انہیں ناگوار گزری۔ وہ زیرِ لب کچھ کہتے ہوئے رُک گئے اور قدرے افسردہ لہجے میں بولے: "ابھی شعور بیدار نہیں ہوا ہے۔”
ان کے یہ الفاظ میرے قدم روکنے کے لیے کافی تھے۔ میں فوراً پلٹ کر ان کے پاس پہنچا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا، وہ گویا ہوئے: "بیٹا! تمہیں معلوم ہے کہ ایس آئی آر پر توجہ نہ دینے کے نتیجے میں بنگال اور بہار میں کیا صورتحال پیدا ہوئی ہے؟” میں نے جواب دیا: "لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج ہو چکے ہیں۔” بزرگ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے کہا: "ہاں، لگتا ہے تم حالات سے واقف ہو، لیکن پھر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اب تک تم نے اپنا فارم کیوں نہیں بھرا؟”
بزرگ کے سوال کا میرے پاس کوئی تسلی بخش جواب تو نہیں تھا، لیکن ان کی باتوں نے میرے دل پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ رات کی نیند ہی اڑا دی۔ جب بھی کروٹ بدلتا، بزرگ کا چہرہ، ان کی آنکھوں میں جھلکتی فکر، اور سب سے بڑھ کر اس پیرانہ سالی میں احساسِ ذمہ داری کا وہ جذبہ میرے ذہن میں گردش کرنے لگتا۔ ان کی باتیں بار بار مجھے جھنجھوڑ رہی تھیں۔
معمول کے مطابق میں نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی۔ تلاوتِ قرآن سے فارغ ہونے کے بعد آج کچھ دیر آرام کرنے کے بجائے اپنے ضروری دستاویزات تلاش کرنے میں لگ گیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد قریب نو بجے ہی محلے کے اسپورٹس سینٹر کا رخ کیا۔ راستے بھر میرے ذہن میں یہی خیال تھا کہ شاید میں پہلا شخص ہوں جو اتنی صبح اس کام کے لیے گھر سے نکلا ہے، لیکن وہاں پہنچ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ مرد و خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد پہلے ہی سے قطاروں میں موجود تھی۔ کوئی اپنے کاغذات ترتیب دے رہا تھا، کوئی مطلوبہ دستاویزات کی جانچ کر رہا تھا اور کوئی خاموشی کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ سب کے چہروں پر سنجیدگی نمایاں تھی اور سب کا مقصد بھی ایک ہی تھا: اپنے نام کو ووٹر لسٹ میں محفوظ اور برقرار رکھنا۔
اسپورٹس سینٹر کے نوجوان رضاکارانہ طور پر اس کام میں لوگوں کی بھرپور رہنمائی کررہے تھے ، کوئی فارم پُر کررہا تھا تو کوئی دستاویزات کی جانچ ، کوئی قطار میں موجود لوگوں کو پرسکون کرنے کی کوشش ، ہرکوئی مصروفِ عمل ہے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کام معمول کی سرگرمیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوش و خروش اور سنجیدگی کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔
شہر کے مختلف محلوں میں قائم اسپورٹس سینٹروں کی رونق ان دنوں دیکھنے کے لائق ہے۔ جہاں عام دنوں میں نوجوان کھیلوں کی باتیں کرتے ہیں وہاں اب میزوں پر فارموں کے ڈھیر، قلم، شناختی دستاویزات اور رضاکاروں کی ٹیمیں دکھائی دے رہی ہیں ، یوں محسوس ہورہا ہے کہ آج کل نوجوانوں نے اسی کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنادیا ہو۔
بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے اس عمل میں بیداری پیدا کرنے اور لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں شروع کیں ہیں جبکہ مجلس اصلاح و تنظیم مسلسل اس پورے عمل کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی مستحق ووٹر اس مرحلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔
تنظیم کے ذمہ داران مختلف محلوں سے معلومات حاصل کر رہے ہیں، رضاکاروں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہر گھر تک یہ پیغام پہنچے کہ ووٹر لسٹ میں نام کا درست اندراج محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شہری ذمہ داری بھی ہے۔
اپنے کام سے فراغت کے بعد گھر لوٹنے کے دوران میں نے کئی ایک دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ کیا اور ایس آئی آر کے فارم کے متعلق پوچھا، اکثرلوگوں نے اپنے فارم جمع کردیئے ہیں اور باتوں باتوں میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بہت سے لوگ اب بھی ایسے ہیں جنہوں نے اس کو اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھا ہے ، نوجوانوں کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود بھی اس کام میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔
چند قدم چلاہی تھا کہ میرے نظر اسی بزرگ پر پڑی جن کی فکر نے آج مجھے فارم پُر کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں ان سے مخاطب ہوتا وہ مسلسل میرے دستاویزات کی فائل پرنظریں جمائے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہوں میں اطمینان اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ وہ کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ گئے ہوں۔
بزرگ آگے بڑھ گئے، لیکن ان کی مسکراہٹ میرے دل میں ایک سوال چھوڑ گئی۔ آخر چند ہی دنوں میں ایسا کیا بدل گیا تھا؟ شاید یہ احساس کہ ووٹر لسٹ کا معاملہ محض ایک سرکاری کارروائی نہیں بلکہ شہری حق اور ہمارے وجود کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ یہی احساس تھا جس نے نوجوانوں کو گھروں سے نکالا، بزرگوں کو فکر مند بنایا اور مختلف محلوں میں ایک خاموش مگر مؤثر بیداری پیدا کردی۔
ووٹر لسٹ کا یہ مرحلہ گزر جائے گا۔ اس ماہ کے آخر تک فارم پُر بھی ہوجائیں گے اور اپنے اپنے حدود کے بی ایل او (BLO) کے سپرد کیے جانے کے بعد اپلوڈ بھی کر دیے جائیں گے، لیکن بھٹکل ان نوجوانوں کی مخلصانہ کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ جب ذمہ داری کا احساس زندہ ہو، تو ہر آنے والے چیلنجز کا مقابلہ آسانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔
ووٹر لسٹ کا یہ مرحلہ گزر جائے گا۔ اس ماہ کے آخر تک فارم پُر بھی ہو جائیں گے اور اپنے اپنے حدود کے بی ایل او (BLO) کے سپرد کیے جانے کے بعد اپلوڈ بھی کر دیے جائیں گے، لیکن بھٹکل ان نوجوانوں کی مخلصانہ کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا اور یہ اس بات کا ثبوت بن کر رہے گا کہ جب ذمہ داری کا احساس زندہ ہو تو ہر آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کامیابی کے ساتھ کیا جا سکے گا۔




