بنگلورو : رپورٹ کے مطابق ساحلی کرناٹک اور ملناڈ کے علاقوں میں حالیہ تیز بارش کی وجہ سے لنگنا مکی اور گھٹپربھا جیسے ڈیموں میں پانی کی آمد ضرور بڑھی ہے، لیکن دیگر علاقوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔
بنگلورو اور آس پاس کے اضلاع کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے کاویری ندی پر بنے ‘کرشنا راج ساگر’ (KRS) ڈیم میں کل گنجائش (49.45 ٹی ایم سی) کا صرف 23 فیصد یعنی 11.49 ٹی ایم سی پانی ہی بچا ہے۔ اسی طرح کبینی ڈیم میں بھی صرف 6.74 ٹی ایم سی پانی موجود ہے، جبکہ پچھلے سال یہ دونوں ڈیم اس وقت تک تقریباً مکمل بھر چکے تھے۔ شمالی کرناٹک میں کرشنا ندی پر واقع الماتی اور نارائن پورہ ڈیموں میں بھی پانی کی آمد کم ہے۔ ریاست میں یکم جون سے اب تک معمول کی 249 ملی میٹر کے مقابلے صرف 165 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ 34 فیصد کی بڑی قلت کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، محکمہ موسمیات نے ہفتے کے آخر تک اچھی بارش کی پیشگوئی کی ہے جس سے حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔




