وادیِ کشمیر کے ممتاز مذہبی و سیاسی رہنما اور انجمنِ اوقات جامع مسجد کے سربراہ میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب وہ سرینگر کے تاریخی علاقے ڈاؤن ٹاؤن کے مقامی نوجوانوں کی جانب سے عیدگاہ میں منعقدہ ایک عوامی و سماجی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ میرواعظ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی اچانک اور بلاجواز نظر بندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکام کی جانب سے ان کو عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کے ساتھ پرامن مکالمے اور رابطے قائم کرنے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
اس جبری نظر بندی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرنے کے ساتھ ہی میرواعظ کشمیر نے وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تشویشناک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک حساس ترین معاملے پر آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک آنے والی نئی بالی ووڈ فلم میں وادیِ کشمیر کے اندر ماضی میں سیکوریٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر استعمال کی جانے والی پیلٹ گنوں کے مہلک ہتھیار کو انتہائی ہلکا اور ‘لمیٹڈ ڈمیج’ یعنی محدود جانی نقصان کا ذریعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ میرواعظ نے اسے کشمیر کے ہزاروں مظلوم پیلٹ متاثرین کی شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف کا مذاق اڑانے سے تعبیر کیا۔
انسانی حقوق اور وادی کے نوجوانوں کے تحفظ کے تناظر میں بات کرتے ہوئے حریت رہنما نے واضح کیا کہ کشمیر میں ایسے ہزاروں متاثرین موجود ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد معصوم نوجوانوں اور بچوں کی ہے، جو اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں یا جن کے نازک اعضاء میں آج بھی پیلٹس کے لوہے کے چھرے پیوست ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مظلوم خاندانوں کے لیے، جو روزانہ ان چھروں کے دردناک نتائج کے ساتھ جینے پر مجبور ہیں، اس قسم کا سنسنی خیز اور جھوٹا فلمی پروپیگنڈا ان کے رستے ہوئے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے فلم سازوں اور سینسر بورڈ کو خبردار کیا کہ یہ متاثرین پروپیگنڈے اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہونے کے بجائے عالمی برادری اور ریاست کی جانب سے ہمدردی، سماجی دیکھ بھال اور حقیقی انصاف کے مستحق ہیں۔
رپورٹس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فلم انڈسٹری کے ذمہ داروں اور ڈائریکٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کی انسانی تکالیف کے تئیں دکھائی جانے والی اس مجرمانہ بے حسی پر فوری طور پر دوبارہ غور کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلم کی موجودہ شکل کو، جس میں حقائق کو مسخ کر کے کشمیر کی زمینی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے، سینما گھروں یا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے سے مکمل طور پر گریز کیا جائے۔ وادی کے سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی میرواعظ کی اس اپیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی فائدے کے لیے انسانی المیوں کو غلط رنگ دینا صحافتی اور تخلیقی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔
کشمیر کی موجودہ سیاسی اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر میرواعظ عمر فاروق کی بار بار کی جانے والی خانہ نظر بندی پر وادی کی مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ پرامن سرگرمیوں پر اس طرح کے انتظامی ہتھکنڈے جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والی اس آواز اور میرواعظ کے شدید احتجاج کے بعد متعلقہ فلم پروڈیوسرز اور حکومتی ادارے فلم کے متنازع حصوں کو ہٹانے کے حوالے سے کیا قانونی یا انتظامی اقدامات اٹھاتے ہیں۔




