رشی کیش میں گھر کے اندر نماز ادا کرنے پر ہندوتوا تنظیم کاہنگامہ

اتراکھنڈ کے معروف مذہبی شہر رشی کیش کے گومانی والا علاقے میں ایک مسلم خاندان کی جانب سے اپنے ہی گھر کے اندر نماز ادا کرنے پر ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں کی طرف سے شدید اعتراض اور ہنگامہ آرائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بجرنگ دل کے ارکان نے مکان مالک محمد ادریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر اپنے نجی رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر مسجد میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ 3 جولائی کو جمعہ کی نماز کے فوراً بعد پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی آزادی کے حقوق کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کی نماز کے اختتام پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے ادریس کے گھر سے نکلنے والے ایک نمازی کو راستے میں روکا اور اس سے اس کی شناخت کا ثبوت طلب کیا۔ تفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ نمازی کا تعلق ریاست بہار سے ہے اور وہ یہاں عارضی طور پر مقیم ہے، تو ہندوتوا تنظیم کے کارکنوں کا شک مزید گہرا ہو گیا۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے مقامی لیڈر نریش اونیال کی قیادت میں کارکنوں نے محمد ادریس کو گھر سے باہر بلایا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ دوسرے اضلاع اور بیرونی ریاستوں سے لوگوں کو بلا کر اور ایک بیرونی امام کا انتظام کر کے یہاں باقاعدہ جماعت قائم کر رہے ہیں، جو ان کے بقول غیر قانونی ہے۔ اس پورے واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے جسے خود بجرنگ دل کے لیڈر نے فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے علاقے میں بیرونی لوگوں کی آباد کاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب مکان مالک محمد ادریس نے بجرنگ دل کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اور ان کا خاندان گزشتہ 6 سالوں سے اسی مکان میں مقیم ہیں اور مقامی انتظامیہ کی مکمل معلومات اور علم میں لائے بغیر کبھی کوئی سرگرمی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے اندر خاندان اور چند احباب کا مل کر نماز پڑھنا کوئی جرم نہیں ہے۔ تاہم، بجرنگ دل کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ نجی مقامات پر اس طرح کی سرگرمیوں سے آہستہ آہستہ ان جگہوں کو مستقل مساجد میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جس سے مقامی اکثریتی آبادی میں مبینہ طور پر خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ہندوتوا تنظیم کے ایک کارکن نے ویڈیو میں کہا کہ انہیں مقامی لوگوں کے گھر کے اندر نماز پڑھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن دور دراز کے علاقوں سے لوگوں کا یہاں جمع ہونا سوالات کھڑے کرتا ہے۔

انسانی حقوق اور اقلیتوں کے مذہبی تحفظ کے تناظر میں یہ واقعہ اتراکھنڈ میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں مسلمانوں کے بنیادی مذہبی حقوق اور نجی زندگی میں مداخلت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق نجی جگہوں پر عبادت کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، لیکن دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے ایسے معاملات کو ‘پراپرٹی کی تبدیلی’ کا رنگ دے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ رشی کیش پولیس کے سب انسپکٹر کے مطابق اس سلسلے میں ابھی تک تھانے میں کوئی باضابطہ تحریری شکایت یا ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور قانون کے مطابق اگلا قدم اٹھایا جائے۔

شیئر کریں۔