دہلی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا ایکس اکاؤنٹ بحال کرنے کا حکم

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے مشہور سیاسی مہم اور طنزیہ ڈیجیٹل موومنٹ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے باضابطہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عالیہ کی جج جسٹس سورنا کانتا شرما نے مہم کے بانی ابھیجیت دیپکے کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مرکزی حکومت نے عدالت کو مطلع کیا کہ اسے اب اس اکاؤنٹ کی بحالی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ جس بنیادی خدشے کے تحت اکاؤنٹ پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی، وہ اب ختم ہو چکا ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے قومی اہلیتی ٹیسٹ یعنی نِیٹ (NEET) کے دوبارہ انعقاد کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر اس سوشل میڈیا ہینڈل کو بلاک کیا گیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ 21 جون کو ہونے والے اس اہم امتحان سے قبل مذکورہ اکاؤنٹ سے کی جانے والی بعض پوسٹس کے باعث لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین میں شدید افراتفری اور الجھن پیدا ہونے کا سنگین خطرہ تھا، جس سے امن و امان کا مسئلہ بن سکتا تھا۔ تاہم، اب چونکہ نِیٹ کا امتحان پرامن طریقے سے مکمل ہو چکا ہے، اس لیے حکومت کو اس اکاؤنٹ کو بحال کرنے میں کوئی تذبذب یا دشواری نہیں ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صرف اپنی مہم کی کامیابی نہیں بلکہ ملک میں ڈیجیٹل حقوق اور آزادیِ اظہار رائے کی ایک بڑی جیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی تنظیم نوجوانوں اور طلبہ کے جائز مطالبات اور ان کے مسائل کے حق میں آن لائن اور آف لائن دونوں محاذوں پر اپنی پرامن جدوجہد اور آواز اٹھانے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے گی۔ یاد رہے کہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انٹیلیجنس بیورو کی بعض رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69 اے کے تحت 21 مئی کو اس اکاؤنٹ کو ہندوستان میں بلاک کر دیا تھا، جس کے فوراً بعد مہم کے منتظمین نے ‘کاکروچ از بیک’ کے نام سے عارضی اکاؤنٹ بنا کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

اس طنزیہ اور احتجاجی مہم کا پس منظر ملک کے نوجوانوں اور روزگار کے بحران سے جڑا ہوا ہے۔ یہ مہم رواں سال 16 مئی کو اس وقت شروع کی گئی تھی جب مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانٹ کی جانب سے ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ‘کاکروچ’ سے کرنے سے متعلق خبریں میڈیا میں سرخیوں کا حصہ بنی تھیں۔ اس بیان پر ملک بھر کے نوجوانوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور محض ایک ہفتے کے اندر اس مہم نے انسٹاگرام پر 22 ملین (دو کروڑ سے زائد) فالوورز حاصل کر کے ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت پیش کی تھی کہ ان کے بیان کو میڈیا کے ایک حصے نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ان کا مقصد عام نوجوانوں کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ وہ صرف فرضی ڈگریوں کے سہارے قانونی شعبے میں آنے والوں کا تذکرہ کر رہے تھے، لیکن نِیٹ امتحان کے پرچے مبینہ طور پر لیک ہونے کے تنازع نے اس احتجاجی تحریک کو مزید ایندھن فراہم کیا۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ نِیٹ پرچہ لیک تنازع اور طلبہ کے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ‘قومی سلامتی’ کا نام دے کر بلاک کرنے کا حکومتی فیصلہ شروعات سے ہی تنقید کی زد میں تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کا یہ حالیہ فیصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومتیں محض سیاسی تنقید، طنز یا عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے طویل عرصے تک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو معطل نہیں رکھ سکتیں۔ یہ عدالتی حکم مستقبل میں ڈیجیٹل سنسرشپ کے خلاف ایک اہم مثال ثابت ہوگا، جہاں انتظامیہ کو کسی بھی آن لائن مواد یا اکاؤنٹ پر پابندی لگانے سے قبل اس کے ٹھوس اور ناگزیر وجوہات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

شیئر کریں۔