احمد آباد بم دھماکہ کیس: گجرات ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، 38 ملزمان کی سزائے موت اور 11 کی عمر قید برقرار

گجرات ہائی کورٹ نے سال 2008 میں احمد آباد میں ہونے والے ہولناک سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں منگل کے روز ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عالیہ نے اس حساس معاملے میں نچلی عدالت کے اس تاریخی فیصلے کو من و عن برقرار رکھا ہے جس کے تحت 38 مجرموں کو سزائے موت اور 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی تمام سزائیں برقرار رہیں گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دھماکوں کا شکار ہونے والے متاثرین اور ان کے لواحقین کے لیے بھاری معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق ان بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے 56 افراد کے پسماندگان کو دس دس لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے، جبکہ اس حادثے میں شدید طور پر زخمی ہونے والے 200 سے زائد افراد کو ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ لرزہ خیز واقعہ 26 جولائی 2008 کو پیش آیا تھا جب احمد آباد شہر میں محض 70 منٹ کے مختصر وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے 21 بم دھماکے کیے گئے تھے جن میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ان دھماکوں کے لیے انتہائی گھناؤنی حکمت عملی اپنائی گئی تھی جہاں بارودی مواد کو ٹفن باکسز میں رکھ کر سائیکلوں پر مختلف عوامی مقامات پر نصب کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔ حملہ آوروں نے نہ صرف مصروف ترین بازاروں اور پبلک بسوں کو نشانہ بنایا بلکہ انسانیت سوز اقدام کرتے ہوئے اس اسپتال کے احاطے کو بھی نہیں بخشا جہاں زخمیوں کو لایا جا رہا تھا۔ ان واقعات کے بعد سورت اور احمد آباد کے دیگر علاقوں سے بھی کئی زندہ بم برآمد کیے گئے تھے جنہیں وقت پر ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس کارروائی کی ذمہ داری مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین نے قبول کی تھی، اور تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ تھا کہ یہ حملے 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے کے مقصد سے کیے گئے تھے۔

اس پورے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے 78 افراد کو نامزد کر کے 35 مختلف ایف آئی آر درج کی تھیں، جن کی تیز رفتار سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت تشکیل دی گئی تھی۔ تقریباً 14 سال تک جاری رہنے والی طویل قانونی کارروائی اور باریک بینی سے کی گئی سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں اپنا تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ اس وقت عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر 28 ملزمان کو باعزت بری کر دیا تھا، جبکہ 49 افراد کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار ایک ساتھ 38 ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔

خصوصی عدالت کے اس تفصیلی فیصلے کو، جو 6700 سے زائد صفحات پر مشتمل تھا اور جس میں 1150 سے زیادہ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے، مجرموں کی جانب سے گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل، پیش کردہ شواہد اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد منگل کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیا اور مجرموں کی اپیلوں کو مسترد کر دیا۔ توقع ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب دفاعی وکلاء قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا رخ کر سکتے ہیں جہاں اس سزا کے خلاف حتمی اپیل دائر کی جائے گی۔

شیئر کریں۔