علی گڑھ (رپورٹ : محمد سہیل ندوی) حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی ہمہ جہت خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے آج بتاریخ ٥/ جولائی ٢٠٢٦ء بعد نماز مغرب مدرسۃ العلوم الاسلامیہ کے کانفرنس ہال میں تعزیتی نشست منعقد کی گئی ، جس میں شہر علی گڑھ کے عمائدین اور اصحاب علم و فضل نے شرکت کی ،علالت و پیرانہ سالی کے باوجود دہلی سے پروفیسر محسن عثمانی ندوی صاحب تشریف لائے اور اس مجلس کی صدارت بھی فرمائی۔
ڈاکٹر عبید اقبال عاصم صاحب قاسمی ، ڈاکٹر ندیم اشرف صاحب قاسمی ،مولانا کمال اختر صاحب قاسمی،مفتی زاہد علی خاں صاحب ،مولانا اشہد جمال صاحب ندوی ، پتوفیسر ابوسفیان اصلاحی صاحب اور ڈاکٹر معید الرحمن ندوی صاحب کے علاوہ دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی اور حضرت مولانا کے تعلق سے والہانہ انداز میں خیالات کا اظہار فرمایا اور مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی ۔
اس تعزیتی نشست کا آغاز مدرسہ ہٰذا کے طالب علم عبد اللہ رفیع کی تلاوت سے ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نذرانۂ عقیدت و محبت مدرسہ ہی کے دوسرے طالب علم محمد ارشف نے پیش کیا ۔
اس روایت کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے مولانا حسن عمار صاحب ندوی نے تمہیدی گفتگو فرمائی اور اپنی اس گفتگو میں مولانا سے اپنے تعلق اور اپنے اوپر مولانا کی شفقتوں و محبتوں کا ذکر کیا ، بانی ادارہ ڈاکٹر محمد غیاث صدیقی صاحب کی مولانا سے بے پناہ محبت کا تذکرہ کیا ۔
اس تمہیدی گفتگو کے بعد ہمارے ادارہ کے روح رواں محترم جناب ڈاکٹر طارق ایوبی صاحب ندوی حفظہ اللہ ورعاہ نے اپنے تأثرات کے آغاز ہی میں یہ بات بیان کی کہ ” کہ میں مبالغہ سے کام لیتا ہوں اور نہ مبالغہ آرائی مجھے قطعی پسند ہے” اور مبالغہ کے بغیر بھی کسی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے ، سچی بات تو یہ ہے کہ مولانا نے تأثرات بیان کرتے وقت مولانا مرحوم کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلؤوں اور خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے دل نکال کر رکھ دیا ، یقیناً مولانا اس سے کہیں زیادہ کے مصداق و مستحق تھے جو بیان کیا گیا۔
مولانا نے فرمایا کہ استاد مرحوم کی شخصیت ایسی نہیں ہے کہ چند نشستوں اور مقالات پر مکمل ہوجائے اور آپ کی خصوصیات و خدمات ضبط میں آجائیں،آپ کی شخصیت ہشت پہل تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آپ ایک فکر ایک دبستان ایک تحریک اور ایک عہد تھے۔ ڈاکٹرطارق ایوبی صاحب نے آپ کی خصوصیات و کمالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بہت سے چشم کشا اور حیرت انگیز باتوں کا انکشاف بھی کیا جن باتوں اور کارناموں سے شاید نئی نسل واقف نہ ہو ۔ذیل میں اس مفصل گفتگو سے ” مشتے از خروارے” کے طور پر نکات کی شکل میں کچھ چیزیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
مولانا کے خطابات میں قرآنی استدلال:
آپ نے فرمایا کہ مجھے جو بھی قرآنی ذوق ملا وہ خالص مولانا کی قرآنی تقریروں اور خطابات سے ملا ہے۔ کیونکہ مولانا کی تقریروں پر قرآنی رنگ غالب ہوتاتھا اور قرآنی آیات سے استدلال کا ملکہ اور صلاحیت اللہ تعالیٰ نے جو مولانا کو عطا فرمائی تھی مجھے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ آپ مخلوط ( مسلم و غیر مسلم کے) بڑے بڑے مجمعوں میں لوگوں کو مخاطب کرتے اور قرآنی پیغام ان کو سناتے چلے جاتے اور اس انداز میں کہ جیسے قرآن ابھی نازل ہورہا ہو۔یہ مولانا کے قرآن سے قلبی لگاؤ اور شغف کی بات ہے۔ مولانا کااستحضار و استدلال تو حیرت انگیز ہوتا ہی تھا ، وہ ترجمہ بھی ایسے کرتے تھے گویا ازبر ہو ۔ مولانا کو جو طلاقت لسانی ، زور بیان اور قوت استدلال قدرت نے عطا کیا تھا وہ بے مثال تھا ، اس پر مستزاد مولانا کی جرات و بے باکی، دنیا سے بے رغبتی، ظاہری و باطنی حسن سے مالا مال تھے ، مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے آخری وحی کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ مولانا کو اللہ نے خطابت کا جو ملکہ دیا ہے اس سے بعض مرتبہ ساتھ میں تقریر کرنے والوں کو دشواری ہوتی تھی اور مجھے تو بعض مرتبہ غصہ آتا تھا ، یہ بشری خصوصیت اور حقیقت ہے جو مولانا نے لکھ دی ہے ، واقعہ یہ ہے کہ مولانا اپنی گونا گوں خصوصیات وہبی کمالات اور کسبی امتیازات کے سبب محسود بن گئے تھے ۔
مولانا کا مزاج تحریکی تھا:
اس کے بعد فرمایا کہ مولانا کو اکثر لوگ صرف متبحر عالم اور مفکر سمجھتے تھے لیکن مولانا تحریکی شخصیت کے حامل بھی تھے ۔ادارہ ساز اور مردم ساز بھی تھے ۔ سینکڑوں ادارے اپنے قائم کرکے چھوڑے ہیں اور زبان پر کبھی ان کا تذکرہ تک نہیں،ابھی چند دن پہلے بھٹکل میں منعقد تعزیتی نشست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا الیاس بھٹکلی ندوی کے حوالے سے فرمایا کہ انہوں نے اپنی تعزیت میں کھل کر کے اسبات کا اعتراف کیا تھا کہ آج سے دس سال پہلے تک اس بھٹکل میں جو بھی تعلیمی ادارے اور ان میں موجود نظام تعلیم کا خاکہ ہے اس میں مولانا کی فکری رہنمائی کا سب سے بڑا حصہ اور اہم کردار ہے۔ مولانا جہاں بیٹھتے تھے تحریک پیدا کر دیتے تھے ، مولانا کا جب علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں آنا جانا شروع ہوا تو ان کی تحریک سے یونیورسٹی کے قدیم و جدید گیسٹ ہاؤس میں دو مسجدیں تعمیر ہوئیں ، ایک بار یونیورسٹی کورٹ کے ممبر منتخب ہوئے تو رجسٹرار آفس کے بلوک میں دو منزلہ مسجد بن گئی ۔ ایسے مولانا کے کتنے کارنامے شمار کرائے جا سکتے ہیں، جمعیت شباب کے ذریعہ نوجوانوں میں جو تحریک پیدا کی گئی اسکی الگ داستان ہے اور اس تحریک کے قتل کی الگ کہانی ہے ۔ مولانا قضیہ فلسطین کو ہندوستان میں یک تحریک بنا دیا ، ہزاروں نوجوانوں میں امت کے مسائل سے دلچسپی پیدا کی ، یہ خود ہی مولانا کی تحریکی شخصیت کا امتیاز تھا ۔
آپ کی مجلسیں فکری اور علمی ہوتی تھیں:
آگے مزید فرمایا کہ مولانا کی مجلسوں میں صرف فکری اور علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی ، عالمی قضایا خص طور پر عالم عربہ اور قضیہ فلسطین سے بحث ہوتی تھی،خالی الذہن شخص صرف اگر آکر مولانا کی مجلس میں بیٹھ جائے تو درجنوں موضوعات اس کو لکھنے اور بولنے کے لئے مل جایا کرتے تھے۔ کبھی مولانا کی مجلسیں غیبت کا اڈہ نہ بن سکیں کبھی اگر کوئی بات ذکر بھی کی گئی تو اس کو ٹال دیا گیا اور آگے نکل گئے۔ سامنے والے کو موقع ہی نہیں ملتا تھا کہ وہ اپنی اس گفتگو کے تسلسل کو باقی رکھ سکے۔امت کی فکر اور عالمی قضایا سے دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ جب مولانا کے داماد کا ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہوا اس وقت تعزیت کے لئے آنے والے لوگوں سے بھی مولانا اپنا غم بھول کر غزہ کا غم بانٹ رہے تھے ۔ مولانا کی مجلس میں افکار اور امت کے لیے دردمندی کا سماں بندھا رہتا تھا، ادھر ادھر کی باتوں کی گنجائش نہیں ہوتی تھی ہاں کبھی کبھی وہ بھی مجلس کے اختتام پر اپنے طلبہ سے کچھ ظریفانہ مزاح کر لیا کرتے تھے ۔
جرأت و بے باکی آپ کی شناخت تھی:
مولانا کی جرات و بے باکی حق گوئی اور اس پر استقامت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس وقت مولانا نے عالم عربی کے خلاف محاذ کھولا اور سعودیہ و امارات کے خلاف لکھنا بولنا شروع کیا وہ دور مولانا کے عروج کا دور تھا بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ مولانا اپنے عروج کی انتہہا پر تھے ، مولانا نے یہ سوچ کر لکھا اور بولا تھا کہ اس سے نقصان ہوگا اور لوگوں کو یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوگی ، لیکن کبھی مولانا مفادات کی خاطر حق بیانی سے گریزاں نہیں ہوئے بلکہ پوری قوت سے اس کا اظہار کیا اور آخری دور تک کرتے رہے حتی کہ اس موضوع پر مولانا کو اپنوں اور بے گانوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا اور سعودی سفارت خانہ تک متحرک ہو گیا ۔ لیکن دوسری طرف اسی پہلو کے سبب مولانا کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔
ڈاکٹر صاحب نے برسبیل تذکرہ آپ کی حق گوئی و بے باکی اور مفادات کو بالائے طاق رکھ کر حق بات کو پیش کرنے کے جذبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا کہ کویت کی "جمعیہ خیریہ” کی جانب سے ایک رقم مولانا کے پاس غالبا 2007 کے نصاب تعلیم پر عالمی سیمینار کے بعد آنا شروع ہوئی تھی لیکن جس وقت مولانا نے سعودیہ و امارات کے خلاف بولا ادھر سے اس بات کا میل آیا کہ وہ رقم اب بند کر دی گئی ہے ۔ اس میل کا پرنٹ جب مولانا تک پہنچا تو آپ نے اپنے خاص انداز میں چشمہ اوپر کرکے دیکھا اور کاغذ کنارے ڈال دیا اور اپنے کاموں میں دوبارہ مصروف ہوگئے۔ یہ استغناء و حق گوئی اپ کو اپنے نانا مفکر اسلام کی تربیت و نسبت سے ملی تھی ، مولانا نے اس کا ادنیٰ سا اثر بھی قبول نہیں کیا۔عالم عربی میں بیٹھ کر جہاں ٹرمپ کی پوجا ہوتی ہے وہاں اس کی مکاریوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے اس کو "دیوث” کہنا مولانا کا ہی جگر تھا، قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے مولانا نے ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم” کی روشنی میں دو ٹوک بات کہی،اس وقت پورا سعودیہ و امارات بوکھلا اٹھا بلکہ عالمی میڈیا نے اس بیان کو کوریج دی اور فوراً عمان پر دباو بنایا گیا ، مجبورا حکومت نے مولانا کو نوٹس دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں،مولانا پر ان تمام باتوں کا ذرہ برابر اثر نہیں پڑتا تھا ، انھوں نے کبھی پروا ہی نہیں کی کون دوبارہ بلائے گا اور کون نہیں بلائے گا۔ آپ کے ضمیر نے مداہنت اور تملق کو کبھی گوارا نہیں کیا۔ اسی شان سے جئے اور اسی شان سے مرے۔رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔
مولانا کے وقت میں بے پناہ برکت تھی:
ڈاکٹر صاحب نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ مولانا کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے برکت بہت رکھی تھی کہ آپ کثرت سے اسفار کے باوجود بہت کثرت سے لکھتے تھے،اس سلسلہ میں اگر صرف آپ کی ڈائری” مذکراتی” کی بات کی جائے تو اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے وہ کافی ہیں۔ مذکراتی کے ٨٥/اجزاء مکمل ٹائپ ہوچکے ہیں۔چالیس سے زائد ڈائریاں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں اور باقی کمپوز ہوچکی ہیں۔ اسکے علاوہ مشعال المصابیح کی 17 جلدیں تیار ہو چکی ہیں، یہ حدیث کی البیلی شرح ہے ، چونکہ مولانا فکر ولی اللہی کے علمبردار تھے اس لیے اس شرح پر بھی اس کی چھاپ نظر آتی تھے ، مولانا شاہ صاحب کے نظریہ فک کل نظام کو بے حد عزیز رکھتے تھے ، ان کی عملی کاوشوں میں اسکی جھلکیاں صاف نظر آتی ہیں ۔
آداب اختلاف سیکھنے کی ضرورت ہے:
آداب اختلاف پر بات کرتے ہوئے آگے ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا : کہ اگر کسی انسان سے غلطی ہوجائے تو اس غلطی کی بنیاد پر خوبیوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا،آپ کی خوبیاں اور کارنامے کسی ایک نشست میں بیان سے باہر ہیں،اگر کسی انسان کی غلطی کا رد عمل اور اس کا ری ایکشن مقاطعہ اور بائیکاٹ کی شکل میں سامنے آنے لگے تو اس کا مطلب سوائے نفسانی خواہشات کے دخل اور مادی مفادات کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ مفادات پر مبنی عقیدت و تعلق انسان کو اندھ بھکتی میں مبتلا کر دیتا ہے پھر وہ شخص غلط کی بھی بے جا تاویل کرتا ہے ، ٹھیک اسی طرح سیاسی یا مفاد پرستانہ سوچ اختلاف کو مخالفت اور مقاطعت میں تبدیل کر دیتی ہے پھر انسان ایک عجیب نفرت کی فضا بناتا ہے ۔
ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ آخری دور میں جو موضوعات مولانا نے چھیڑے ان سے ہمیں مولانا کی حیات میں بھی اتفاق نہ تھا اور نہ اب ہے ۔ اور نہ ہی اسکا مطالبہ ہے کہ کسی شخصیت کے تمام افکار و مواقف سے اتفاق کیا جائے ، ہمارے یہاں یہ اختلاف کی علمی روایت تو ہماری تاریخ کا امتیاز ہے ۔ پھر مولانا نے جو موضوع چھیڑا اس میں وہ تنہا نہ تھا بقول مولانا ارشد مدنی مد ظلہ پہلے بھی بہت سے علماء اس پر گفتگو کر چکے ہیں، یہ کفر و ایمان کا مسئلہ نہیں ہے ۔
میں نے متعدد مرتبہ مولانا سے اسکا اظہار کیا ملاقات میں، فون پر اور خطوط کے ذریعے لیکن کبھی یہ احساس نہ ہوا کہ مولانا کی طبیعت یا ہمارے تعلق پر ہمارے اختلاف کا کوئی اثر ظاہر ہوا ہو ، میرا یہ بھی احساس ہے کہ اس بے نتیجہ بحث سے کچھ حاصل نہیں، اہل بیت اطہار کا مقدمہ اور ان کی محبت اور مقام و مرتبہ بغیر ایسی بحث کے بھی بیان کیا جا سکتا ہے جس سے منفی اثرات پڑیں ، یہ کام کرنے کا ہے اور کیا جانا چاہیے ۔
ڈاکٹر صاحب کی تفصیلی گفتگو کے بعد مولانا کمال اختر قاسمی صاحب نے اپنے تاثرات و خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کی شخصیت صرف علمی شخصیت ہی نہیں تھی بلکہ عملی بھی تھی،آپ کا زہد و ورع اور استغناء مثالی تھا۔ کمال صاحب مولانا کے عبادت پر گفتگو کی اور مولانا کے استغناء کے بعض واقعات سنائے ۔
اسی طرح ڈاکٹر ندیم اشرف صاحب قاسمی نے اپنے خیالات کا اظہار اس آیت کی روشنی میں کیا ” ولا یجرمنکم شنآن قوم علی أن لا تعدلوا اعدلوا”( کسی قوم یا شخص کی دشمنی میں اتنے نہ ڈوب جاؤ کہ انصاف ہی نہ کرسکو) آگے مزید فرمایا کہ اختلافات کو خدمات کے انکار کے ذریعہ نہ بنایا جائے یہ قطعا اہل علم کارویہ نہیں ۔
ڈاکٹر اشہد جمال صاحب ندوی نے اپنے خیالات کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہم(مسلم قوم)ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل دستور حیات اور نظام زندگی ہے لیکن مجھے ابھی تک اس حقیقت پر عمل کرتا ہوا اور اسکو پوری قوت سے پیش کرتا ہوا کوئی اگر ملا تو وہ واحد شخصیت علامہ سید سلمان حسین ندوی رحمہ اللہ علیہ کی تھی۔گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے آگے فرمایا کہ مولانا اپنا ایک تعلیمی وژن رکھتے تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک عظیم الشان عالمی کانفرنس منعقد کی اور عالمی لیول پر تحقیق و جستجو کے بعد ” ہمارا نصاب تعلیم کیا ہو” کتاب لکھی۔مدارس اور اسکولوں سے وابستہ حضرات کو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔مزید فرمایا : کہ مولانا کی ایک نمایاں خصوصیت تھی کہ وہ نوجوانوں سے محبت کرتے تھے۔کیونکہ آج کے نوجوان کل کے قائد ہیں انھوں نے کہا کہ لوگ انھیں بڑا محدث مانتے ہیں لیکن مجھے ان کی قرآنی فکر قرانی ذوق اور قرانی خدمات زیادہ پسند ہیں ۔
ڈاکٹر عبید اقبال عاصم صاحب قاسمی نے اپنے تأثرات میں اس بات پر شدید افسوس ظاہر کیا کہ مولانا کے انتقال پر جن لوگوں نے دعائے مغفرت کے بجائے طعن و تشنیع کا بازار گرم کیا اور فضول بحثیں چھیڑیں وہ قابل رحم لوگ ہیں ۔مولانا کی خدمات کو سراہا جانا چاہئے اور آپ کی خوبیوں کو عام کرنا چائیے۔اسی طرح ڈاکٹر معید الرحمن صاحب نے اپنے خیالات و تأثرات کے اظہار میں یہ بات بڑی زور دے کر فرمائی کہ آج ہندوستان کے حالات کس درجہ نازک ہیں! مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنائےجانے کی تقریباً تیاریاں ہوچکی ہیں اور ہم جنت و جہنم کے فیصلے کرتے پھر رہے ہیں۔آگے فرمایا : وسعت نظری مولانا کو علی میاں ندوی سے ورثہ میں ملی تھی۔مولانا عالمی سطح پر شیعہ سنی اتحاد اور ملکی سطح پر مسلموں و غیر مسلموں کے درمیان اتحاد کے داعی و حامی تھے۔ اسی نقطۂ نظر پر انہوں نے کام کیا اور آخر تک یہی موقف رہا۔
مفتی زاہد علی خاں صاحب نے فرمایا کہ جرأت و بیباکی مولانا کی خاص صفت تھی جو کہ اب عنقاء ہے۔
اخیر میں نشست کی صدارت فرمارہے بزرگ شخصیت پروفیسر محسن عثمانی صاحب نے فرمایا : پوری قوت کے ساتھ حق بات کا اظہار ہم نے مولانا حسینی سے سیکھا۔سعودیہ کے خلاف جو کچھ ہمیں لکھنے اور بولنے کی توفیق ہوئی اس کا سہرا مولانا کے سر جاتا ہے۔ اور اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آگے فرمایا کہ مولانا پیغمبرانہ مشن کے حامل اور اس کے بھر پور داعی تھے پورے بر صغیر میں عرب حکام کی بے دینی اور غلط روش پر تنقید میں منفرد اور واحد طاقتور آواز تھے ، میں نے ان کے خلاف مہم جوئی ہوئی تو ان کی حمایت میں بھی لکھا ، مولانا کو یہ توفیق و بے باکی اپنے نانا مولانا علی میاں ندوی سے ملی تھی جنھوں نے عرب قومیت کے خلاف طاقتور احتجاج کیا تھا ۔ اور پھر پروگرام میں موجود طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے نصیحت کے انداز میں ان سے فرمایا کہ آپ لوگ ” مذکراتی” ضرور مطالعہ میں رکھیں کیونکہ کسی بھی زبان کو سیکھنے کی ابتدا روز مرہ استعمال کئے جانے والے الفاظ و تعبیرات سے ہونی چاہئے اور ” مذکراتی” مولانا کا روزنامچہ ہے۔کوئی ادب کی کتاب نہیں ہے۔ اسلحاظ سے ” مذکراتی” طلبہ کے لئے ایک بہترین اور مفید چیز ہے۔
ان حضرات کے علاوہ شہر کی دیگر شخصیات اور مدرسہ کے تمام طلبہ موجود تھے ۔
مولانا اشہد جمال صاحب کی پر سوز دعا پر اس تعزیتی نشست کا اختتام ہوا ۔
اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے اور امت کو نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔




