غزہ میں دو دہائیوں بعد حماس حکومت کا خاتمہ ،انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی طرف اہم پیش رفت

استنبول/ غزہ سٹی: فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ پٹی میں اپنی سول حکومت کے خاتمے، ہنگامی کمیٹی کو تحلیل کرنے اور عبوری چیئرمین کے استعفیٰ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حماس کے سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے دیر البلح میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ یہ قدم غزہ کا انتظام ‘نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ (NCAG) کو منتقل کرنے کی تیاریوں کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کو غزہ میں طویل عرصے سے جاری جنگ، معاشی ناکہ بندی اور انسانی بحران کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی اہم سفارتی اور سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، حماس نے غزہ میں حکومتی نظام کی منتقلی کے لیے تمام ضروری قانونی اور انتظامی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ان تیاریوں اور روڈ میپ کو فلسطینی دھڑوں، سیاسی قوتوں، قبائلی رہنماؤں کی اعلیٰ کمیٹی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر مشتمل ایک مشترکہ قومی ٹیم کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جہاں اقوامِ متحدہ کے مبصر بھی موجود تھے۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے گورنمنٹ فالو اپ کمیٹی کے قائم مقام سربراہ اور ایمرجنسی کمیٹی کے چیئرمین محمد عبد الخالق الفرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ہنگامی کمیٹی کو باقاعدہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔

حماس حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام غزہ میں حکمرانی کے نظام کو ازسرنو منظم کرنے کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ان کی مخلصانہ عزم کا ثبوت ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نسل کشی، تعمیرِ نو میں تاخیر، طویل معاشی ناکہ بندی، سرحدی راستوں کی بندش اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے شدید انسانی مصائب کو کم کرنا ہے۔ عبوری مرحلے کے دوران انتظامی خلا کو روکنے اور عوامی خدمات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صرف تکنیکی اور پیشہ ور سول ملازمین اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے، جیسا کہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے درمیان طے پایا تھا۔

قومی انتظامی کمیٹی (NCAG) نے خود کو ایک غیر سیاسی ادارے کے طور پر متعارف کروایا ہے، جو غزہ کے روزمرہ کے سول اور انتظامی امور کو سنبھالنے کا ذمہ دار ہو گا۔ ممتاز فلسطینی قومی شخصیات پر مشتمل یہ کمیٹی رواں سال کے وسط جنوری سے قاہرہ سے کام کر رہی ہے، لیکن ابھی تک غزہ پٹی کے اندر سے اس نے باقاعدہ کام شروع نہیں کیا تھا۔ حماس نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس کمیٹی کی غزہ میں تعیناتی کے عمل کو تیز کریں تاکہ یہ ادارہ اپنی قومی اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ دوسری طرف، اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘کان’ نے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے حماس کے اس اقدام کو ‘دھوکہ دہی’ قرار دیتے ہوئے ادعا کیا ہے کہ اس کے عملی طور پر کوئی معنی نہیں ہیں کیونکہ ملازمین اپنی جگہ برقرار ہیں۔

یہ اہم ترین سیاسی منتقلی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حماس اور بین الاقوامی ثالث کار غزہ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے کوشاں ہیں۔ واضح رہے کہ ستمبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 20 نکاتی امن منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا، ٹیکنوکریٹک حکومت کا قیام، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنا شامل تھا۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہوا تھا۔ حماس کا مؤقف ہے کہ اس نے اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں جبکہ اسرائیل اپنی یقین دہانیوں سے مکر رہا ہے اور اس کی روزمرہ جارحیت کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک 73,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 173,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

شیئر کریں۔