بھوپال: مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے ایک بڑا اور دور رس فیصلہ کرتے ہوئے ریاست میں وقف بورڈ کی تشکیل نو کی ہے۔ مدھیہ پردیش گزٹ میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس بار تاریخ میں پہلی بار وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد مدھیہ پردیش ملک کی وہ پہلی ریاست بن گیا ہے جس نے نئے متنازع قوانین کے تحت اوقافی املاک کے انتظام و انصرام کے لیے غیر مسلموں کو بورڈ کا حصہ بنایا ہے۔ اس سرکاری فیصلے کے بعد مسلم کمیونٹی، مذہبی حلقوں اور سیاسی راہداریوں میں وقف املاک کے تحفظ اور بورڈ کی خودمختاری کو لے کر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق نو تشکیل شدہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے صدر کی ذمہ داری ایک بار پھر سنور پٹیل کو سونپی گئی ہے۔ اس 10 رکنی بورڈ میں جہاں مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات کو جگہ دی گئی ہے، وہیں دو ہندو اراکین منوج مالپانی (اندور) اور انمیش بھارگو (گنا) کو بھی باقاعدہ رکن نامزد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت والی ریاستی حکومت نے یہ قدم وقف (ترمیمی) ایکٹ کے التزامات کے تحت اٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ پرانے وقف ایکٹ کے تحت ریاستی حکومتوں کی جانب سے نامزد کیے جانے والے تمام اراکین کے لیے مسلمان ہونا لازمی شرط تھی، لیکن حالیہ ترامیم کے بعد اب بورڈ میں غیر مسلموں کی شمولیت کا راستہ صاف کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ حکومت اس اقدام کو انتظامی اصلاحات اور شفافیت کا نام دے رہی ہے، لیکن مسلم دانشوروں اور حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وقف املاک مسلمانوں کی مذہبی اور فلاحی مقاصد کے لیے وقف کردہ جائیدادیں ہوتی ہیں، جن کا انتظام خالصتاً اسی کمیونٹی کے پاس ہونا چاہیے جو ان کے مذہبی قوانین (شریعت) اور اوقاف کے بنیادی مقصد سے واقف ہوں۔ بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے مستقبل میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور اوقافی اراضی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دستیاب کتباتی اور قانونی معلومات کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت نے وقف ایکٹ کی دفعہ 13 (1) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 4 جولائی کو یہ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نئے بورڈ میں سابق مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ، بھوپال شمال سے ٹی ایم سی/کانگریس کے متبادل سیاسی دھارے سے وابستہ رکن اسمبلی عتیق عقیل، اجین کے فیاض خان، اندور کی فاطمہ چودھری، بھوپال سے شائستہ سلطان، رتلام کی کونسلر شبانہ خان اور پسماندہ طبقہ و اقلیتی فلاح و بہبود کے کمشنر کو شامل کیا گیا ہے۔ نجمہ ہپت اللہ کی رکنیت ان کی پہلی میعاد یعنی 18 اپریل 2028 تک برقرار رہے گی، اس لیے انہیں اس نئی فہرست میں بھی جگہ دی گئی ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کا اثر اب دیگر ریاستوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ مرکز اور مختلف بی جے پی مقتدرہ ریاستوں میں وقف قوانین میں تبدیلی کے لیے مسلسل دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ اوقافی بورڈز میں کسی بھی قسم کی ایسی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے جو مسلمانوں کے مذہبی حقوق اور ان کے اثاثوں کی منتقلی یا نقصان کا سبب بنے۔ آنے والے دنوں میں اس نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کیے جانے یا اس کے خلاف عوامی و سیاسی احتجاج کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔




