کروڑوں ہندوستانی غزہ نسل کشی کے خلاف : نیتن یاہو کے دعوے پر کانگریس کا سخت جواب

نئی دہلی: اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے ایک امریکی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ہندوستان کی زبردست حمایت کا دعویٰ کیے جانے کے بعد ملک کی سیاسی راہداریوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے نیتن یاہو کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی اور اسرائیل-فلسطین تنازع پر ان کی خاموشی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی حکام کی جانب سے اسرائیل کی تنہائی پر اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب میں نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ انہیں ہندوستان جیسے بڑے ملک کی حمایت حاصل ہے، دراصل حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ جے رام رمیش نے واضح کیا کہ اگرچہ موجودہ مودی حکومت اور کارپوریٹ نظام اسرائیل کی اندھی تقلید کر رہے ہیں، لیکن ہندوستان کے کروڑوں عوام غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سخت خلاف ہیں۔

اپنے بیان میں کانگریس رہنما نے غزہ میں جاری صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں ہندوستانی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی مبینہ نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہیں، جہاں معصوم بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کیے جانے، ایران پر فضائی حملوں اور جنوبی لبنان میں جاری وحشیانہ فوجی مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو انسانیت پر براہ راست حملہ قرار دیا۔

جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘وشوگرو’ کے لقب سے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان عالمی واقعات اور انسانی بحران پر وزیر اعظم کی پتھر جیسی خاموشی ہندوستان کی تاریخی اور تہذیبی وراثت کے بالکل منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے مظلوموں کے حقوق اور عالمی امن کا علمبردار رہا ہے، ایسے میں موجودہ حکومت کا مؤقف ملکی اقدار کے ساتھ غداری کے مترادف ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکے اسرائیلی وزیر اعظم سے کسی بھی قسم کی تائید حاصل کرنا ہندوستان کے لیے اعزاز کی بات نہیں ہو سکتی۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل دنیا میں تنہا نہیں ہے بلکہ اسے 1.4 ارب آبادی والے ملک ہندوستان سے زبردست عوامی اور سفارتی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہندوستان سے بڑی تعداد میں حمایتی پیغامات موصول ہوتے ہیں، جس پر اب بھارتی اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

شیئر کریں۔