کنڈلور (فکروخبرنیوز/پریس ریلیز) جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور میں طلبہ کی علمی، فکری اور خطیبانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مقصد سے شہریہ بزمِ خطابت کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس پروگرام میں سفلیٰ اور علیا گروپ کے مجموعی طور پر 18 طلبہ نے مختلف دینی، اصلاحی اور معاشرتی موضوعات پر پُراثر اور مدلل تقاریر پیش کیں۔ ان عناوین کا تعین اساتذۂ کرام نے پہلے ہی کر دیا تھا، جن پر طلبہ نے بھرپور محنت کرتے ہوئے بہترین انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کے اختتام پر جامعہ کے ناظمِ محترم مولانا عبید اللہ ابوبکر ندوی صاحب نے اپنے صدارتی تاثرات میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ بہترین خطابت، عمدہ اندازِ بیان اور مضبوط علمی مواد سامعین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جو طلبہ اللجنۃ الٹافیہ کے پلیٹ فارم سے مسلسل محنت کرتے ہیں اور اپنی خطیبانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں، وہ جامعہ سے فراغت کے بعد بڑے بڑے اجتماعات، کانفرنسوں اور جلسوں میں کسی خوف، جھجک یا مرعوبیت کے بغیر اعتماد کے ساتھ اپنی بات پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ نے مزید فرمایا کہ جامعہ کے بہت سے فضلاء نے زمانۂ طالب علمی میں بزمِ خطابت، ہفتہ وار پروگراموں اور ماہانہ جلسوں میں سرگرمی سے حصہ لیا، اساتذہ کی نگرانی میں اپنی تقاریر کو نکھارا اور مسلسل مشق کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ اپنے اپنے علاقوں کی بڑی مساجد میں منبر و محراب کی زینت بن کر دینِ اسلام کی مؤثر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس موقع کی قدر کریں، اپنے اکابر کی تقاریر سنیں، ان کے اندازِ بیان سے استفادہ کریں اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشیں۔
اس بزمِ خطابت کی تیاری اور کامیابی میں حضرت مولانا الیاس صاحب ندوی اور مفتی حارث صاحب ندوی نے خصوصی محنت فرمائی، جبکہ دیگر اساتذۂ کرام نے بھی طلبہ کی بھرپور رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔ انہی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھا کہ یہ پروگرام نہایت کامیاب، مفید اور اپنے مقاصد کے حصول میں مؤثر ثابت ہوا اور طلبہ نے اپنی بہترین کارکردگی سے حاضرین کی بھرپور داد حاصل کی۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تمام مشارکین کو بطورِ انعام ایک ایک مفید کتاب پیش کی گئی۔ نیز اسی بابرکت موقع پر دوم اور پنجم عربی کے طلبہ کے تیار کردہ جداریہ پرچوں کا بھی جامعہ کے ناظمِ محترم مولانا عبید اللہ ابوبکر ندوی صاحب کے دستِ مبارک سے اجرا عمل میں آیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
آخر میں بزمِ خطابت کے ذمہ دار حضرت مولانا الیاس صاحب ندوی نے تمام مشارکین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی محنت اور عمدہ کارکردگی کو سراہا۔ آپ نے پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون کرنے والے جملہ اساتذۂ کرام کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اپنی مسلسل محنت، رہنمائی اور توجہ سے طلبہ کو بہترین انداز میں تیار کیا۔ اسی طرح آپ نے عالیہ رابعہ کے طلبہ کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پروگرام کے انتظام و انصرام اور اس کی کامیابی کے لیے نہایت خوش دلی، ذمہ داری اور اخلاص کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انعامات کی تقسیم، جداریہ پرچوں کے اجرا اور دعائیہ کلمات کے ساتھ یہ کامیاب ماہانہ بزمِ خطابت اپنے اختتام کو پہنچی۔




