ہندوستان : جون میں روزانہ 6 ہزار سے زائد الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت

ہندوستان کی الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی صنعت نے جون 2026ء میں ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے روزانہ 6 ہزار سے زائد رجسٹریشنز کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ پٹرول اور روایتی ایندھن کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں، کم آپریٹنگ لاگت اور بازار میں مختلف برانڈز کے نئے ماڈلز کی وسیع دستیابی نے صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف تیزی سے راغب کیا ہے۔ سرکاری پورٹل ‘واہن’ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جون کا مہینہ ملکی تاریخ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے لحاظ سے دوسرا سب سے بہترین اور کامیاب مہینہ ثابت ہوا ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق جون 2026ء میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی مجموعی رجسٹریشنز سال بہ سال 64 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 81 ہزار 168 یونٹس تک پہنچ گئیں۔ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یومیہ اوسط رجسٹریشن تقریباً 3600 یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، جو اب بڑھ کر 6 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس سے قبل مارچ 2026ء میں مالی سال کے اختتام اور مغربی ایشیا کے تنازع کے باعث خام مال کی متوقع مہنگائی سے پہلے 1 لاکھ 92 ہزار 508 گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی تھی، جو اب تک کا سب سے بلند ترین ماہانہ گراف ہے۔

معروف ریٹنگ ایجنسی ‘کرسل ریٹنگز’ کی ڈائریکٹر پونم اپادھیائے نے اس غیر معمولی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس اچھال کی بنیادی وجوہات میں گاڑی چلانے کی کم لاگت، بہتر ٹیکنالوجی اور بڑی آٹو موبائل کمپنیوں کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔ ان کمپنیوں نے نہ صرف سستے ماڈلز متعارف کروائے ہیں بلکہ اپنے ڈسٹری بیوشن اور سروس نیٹ ورک کو بھی دیہی اور شہری علاقوں میں مضبوط کیا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے بعد 28 فروری سے اب تک پٹرول کی قیمتوں میں فی لیٹر تقریباً 7 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے عام صارفین کے بجٹ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور وہ الیکٹرک متبادل کو ترجیح دے رہے ہیں۔

صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اب محض وقتی ضرورت یا پٹرول کی گرانی تک محدود نہیں رہا بلکہ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں اب عام ہندوستانی صارفین کے لیے ایک مستقل اور مرکزی انتخاب بنتی جا رہی ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جون 2026ء میں ملک کے اندر نئی دو پہیہ گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ بڑھ کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 7.3 فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اپریل میں 1.39 لاکھ اور مئی میں 1.73 لاکھ یونٹس کی فروخت کے بعد جون میں 1.81 لاکھ کا یہ ہندسہ مارکیٹ میں ای وی کے بڑھتے ہوئے غلبے کو واضح کرتا ہے۔

بڑی آٹو ساز کمپنی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر سدھرشن وینو نے اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹ میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں جاری غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل انتہائی روشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا ‘بیٹری ایز اے سروس’ ماڈل ان متوسط اور قیمت کے حوالے سے حساس صارفین کے لیے ایک بہترین سہولت ثابت ہو رہا ہے جو بیٹری کی مہنگی قیمت کی وجہ سے ای وی خریدنے سے کتراتے تھے۔ توقع ہے کہ آنے والے تہواروں کے سیزن میں ان گاڑیوں کی مانگ اور رجسٹریشنز میں مزید ریکارڈ ساز اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

شیئر کریں۔