کرناٹک میں کانگریس حکومت کی پانچ بڑی گارنٹی اسکیموں میں سے ایک انتہائی اہم اسکیم ‘گروہا جیوتی’ کے مستحقین کی تصدیق کا عمل ریاست بھر میں باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ بدھ یکم جولائی سے مختلف بجلی کمپنیوں (Escoms) کے ملازمین نے صارفین کے گھر گھر جا کر ڈیٹا جمع کرنے اور میٹر ریڈنگ کی جانچ پڑتال کا کام شروع کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے منگل کی رات دیر گئے اس تصدیقی عمل کے حوالے سے باضابطہ احکامات جاری کیے تھے، جس کا مقصد اسکیم میں موجود بے ضابطگیوں کو دور کرنا اور حقیقی مستحقین تک فائدہ پہنچانا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق، بجلی محکمے کے فیلڈ اہلکار صارفین کے گھروں کا دورہ کر کے موقع پر ہی ایک خصوصی موبائل ایپلیکیشن اور ڈیکلریشن فارم کے ذریعے معلومات کا اندراج کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سروے ٹیموں کی آمد پر اپنے ضروری دستاویزات تصدیق کے لیے تیار رکھیں، جن میں شناختی کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پین کارڈ، راشن کارڈ (بی پی ایل یا اے پی ایل) اور کرایہ نامہ شامل ہیں۔ اس عمل کے دوران صارفین کی پیشہ ورانہ تفصیلات بھی نوٹ کی جا رہی ہیں تاکہ ڈیٹا بیس کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے گروہا جیوتی اسکیم کا آغاز جولائی 2023ء میں کیا گیا تھا، جس کے تحت گھریلو صارفین کو ماہانہ 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم، گزشتہ ماہ جون میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران اس اسکیم میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں۔ پتا چلا تھا کہ کئی اصل مستحقین کے انتقال کے باوجود ڈیٹا اپ ڈیٹ نہیں ہوا، کرایہ داروں کے مکان تبدیل کرنے کے بعد بھی پرانے ریکارڈ چل رہے ہیں، اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ کئی کمرشل یونٹس رہائشی میٹر کنکشنز کا استعمال کر کے مفت بجلی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انھی خامیوں کو دور کرنے کے لیے فہرستوں پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ توانائی کے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ سروے ریاست کی تمام پانچوں بجلی کمپنیوں بشمول بیسکام (Bescom)، میسکام (Mescom)، ہیسکام (Hescom)، جیسکام (Gescom) اور سیسک (Cesc) کے حدود میں بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔ اس مہم کو اگلے دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ تصدیق صرف موقع پر جا کر ہی ممکن ہے، اس لیے حکومت نے تمام شہریوں اور مستحقین سے اپیل کی ہے کہ وہ وزٹ کرنے والے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ اس عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نظرثانی کے عمل سے نہ صرف سرکاری خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری بوجھ کو کم کیا جا سکے گا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ غریب اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے حقیقی صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے اس سہولت سے مستفید ہوتے رہیں۔ سروے کی تکمیل کے بعد صرف اہل اور تصدیق شدہ صارفین کو ہی مفت بجلی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔




