کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی نظرِ ثانی پر سیاسی ہلچل تیز، حکومت کا شہریوں کی سہولت کے لیے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا بڑا اعلان

کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) مہم کے آغاز کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور انتخابی فہرستوں کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا انتظامی قدم اٹھایا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بنگلور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت شہریوں کی سہولت اور تصدیقی عمل کو آسان بنانے کے لیے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) جاری کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی شہری یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہتا ہے، اسے آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے یہ سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ کوئی بھی جائز ووٹر اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہ سکے۔

وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کے فوری بعد محکمہ مال نے مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے جامع ہدایات جاری کر دی ہیں۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ ریاست کرناٹک میں مستقل رہائش کا ایک مستند اور حتمی ثبوت تصور کیا جائے گا۔ شہریوں کی آسانی کے لیے حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سرٹیفکیٹ کے لیے ’سیوا سندھو‘ پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں پہلے سے موجود قائم کردہ مراکز جیسے اٹل جنا سلیہی کیندر، ناڈا کچھری، بنگلور ون، کرناٹک ون اور گراما ون پر بھی درخواستیں قبول کی جائیں گی۔ شہریوں کی رہنمائی کے لیے تمام وارڈز اور پولنگ بوتھس پر مجموعی طور پر 49 ہزار 320 سہولتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

حکومتی پالیسی کے مطابق ریاست کے ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد شہریوں کو پہلے ہی ڈیجیٹل کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں 2.54 کروڑ او بی سی اور 2.94 کروڑ ایس سی، ایس ٹی برادری کے لوگ شامل ہیں۔ حکومت نے ان تمام شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس مہم کے دوران اپنے سرٹیفکیٹ ڈیجیٹل طور پر ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کر سکتے ہیں اور اس کام میں بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے) شہریوں کی بھرپور مدد کریں گے۔ ڈی کے شیوکمار نے شہریوں کو متنبہ کیا کہ بوتھ لیول افسران 29 جولائی تک تین بار ان کے گھروں کا دورہ کریں گے اور اندراجی فارم فراہم کریں گے۔ اگر کسی شہری نے فارم جمع نہیں کرایا تو 5 اگست کو شائع ہونے والی عبوری ووٹر لسٹ سے اس کا نام غائب ہو سکتا ہے، جس کے بعد شدید قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

اس مہم کے سماجی اور سیاسی اثرات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ووٹ کا حق دراصل جینے کا حق ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دیگر ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مغربی بنگال میں اس مہم کی بنیاد پر غیر مستحق راشن کارڈ ہولڈرز کے نام خارج کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں اور دیگر ریاستیں بھی ایسے ہی اقدامات کر رہی ہیں۔ اگر کوئی شہری ووٹر لسٹ سے باہر ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں تمام سرکاری فلاحی اسکیموں اور مراعات سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ اس لیے پسماندہ طبقات اور اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ اس وقت سب سے اہم ضرورت ہے۔

ریاستی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان مراکز اور سرٹیفکیٹس کے اجرا کا اصل مقصد انتخابی عمل کو شفاف بنانا اور کسی بھی ممکنہ امتیازی کارروائی کا راستہ روکنا ہے۔ کانگریس حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی اس مہم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں کی طرح یہاں شہریوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت نے انتظامیہ کو سخت ہدایات دی ہیں کہ وہ ہر ایک اہل شہری کا اندراج یقینی بنائے اور اس عمل کو مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رکھا جائے۔

شیئر کریں۔