امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی ہندوستان کے تاریخی اور تکنیکی مرکز حیدرآباد میں امریکی قونصل خانے سے متصل ایک اہم ترین سڑک کا نام تبدیل کر کے ’’ڈونالڈ ٹرمپ ایونیو‘‘ رکھے جانے پر تلنگانہ حکومت کا باضابطہ شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکی صدر نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جنہیں ہندوستان میں اس نوعیت کے انوکھے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ ایک پیغام میں تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملی بھٹی وکرمارکا اور ہندوستان میں متعین امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے رواں ہفتے منعقدہ تقریبِ نقاب کشائی کی تصویر بھی شیئر کی اور اس تاریخی اقدام کو دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے رشتوں کا عکاس قرار دیا۔
یہ سڑک جو فنانشل ڈسٹرکٹ کے نانک رام گوڈا علاقے میں واقع ہے، پہلے ’’یو ایس قونصل خانہ روڈ‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھی، جسے منگل کے روز ایک پروقار تقریب میں باضابطہ طور پر نیا نام دیا گیا۔ یہ شاہراہ امریکی قونصل خانے کی عمارت سے بالکل متصل ہے اور یہاں مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون جیسی مایہ ناز امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑے دفاتر قائم ہیں۔ یہ اہم نام تبدیل کرنے کی تقریب امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی یاد میں منعقدہ ‘فریڈم 250’ پروگرام کے دوران عمل میں لائی گئی، جس میں دونوں ممالک کی اہم سیاسی اور سفارتی شخصیات نے شرکت کی۔
حیدرآباد میں قائم امریکی قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق، اس خصوصی سفارتی اقدام سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے تئیں احترام کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ہند-امریکی تزویراتی تعلقات میں حیدرآباد کے مسلسل بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر سرجیو گور نے دونوں ممالک کے مابین حیدرآباد کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ٹیک سٹی سے لے کر ایرو اسپیس اور دفاعی شعبوں تک، یہ پورا خطہ اس غیر معمولی ترقی کی نمائندگی کرتا ہے جو ہند-امریکی دوطرفہ تعلقات کی رفتار اور سمت کا تعین کر رہی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس باوقار شراکت داری کا ثبوت ہے جس کی وکالت صدر ٹرمپ ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔
دو طرفہ معاشی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر گور نے واضح کیا کہ تجارتی معاہدوں اور مشن انڈیا کے مابین جاری تعاون کے تحت امریکہ میں 20 بلین ڈالر سے زائد کی نئی ہندوستانی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی سے ہم دنیا پر ثابت کر رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے نعرے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ امریکہ عالمی برادری میں اکیلا ہے۔ تقریب کے دوران تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملی بھٹی وکرمارکا نے امریکی عوام کو ان کے یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے تلنگانہ کو ہند-امریکی اقتصادی اور سائنسی تعلقات کا ایک اہم ترین ستون قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی قونصل جنرل لورا ولیمز نے کہا کہ حیدرآباد کا مصنوعی ذہانت، بائیو فارما اور دفاعی شعبے کا ماحول دنیا کے مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں ہند-امریکی تعلقات کو مختلف محاذوں پر سنگین سفارتی اور تجارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ واشنگٹن کی موجودہ انتظامیہ نے ہندوستانی اشیاء پر درآمدی محصولات میں اضافہ کیا ہے، نئی دہلی کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر مالیاتی پابندیوں کا انتباہ دیا ہے اور خطے میں توازن قائم کرنے کے نام پر پاکستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور فوجی روابط کو دوبارہ فعال کیا ہے۔ اگرچہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے اب تک کے دونوں ادوارِ صدارت میں کبھی خود حیدرآباد کا دورہ نہیں کیا، جبکہ ان کے برعکس سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش اس شہر کا دورہ کر چکے ہیں۔ تاہم، گزشتہ ہفتے فرانس میں منعقدہ جی7 سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعمیری ملاقات ہوئی تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے معطل شدہ تجارتی مذاکرات کو دوبارہ آگے بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔


