قطر کے راس لفان صنعتی حادثے میں ہلاک مزید 8 بھارتیوں کی میتیں وطن منتقل

قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں پیش آنے والے المناک صنعتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید آٹھ بھارتی شہریوں کی میتیں خصوصی سفارتی انتظامات کے تحت بھارت روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس تازہ ترین کارروائی کے بعد خلیجی ملک سے وطن واپس بھیجی جانے والی بھارتی شہریوں کی لاشوں کی مجموعی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔ قطر میں قائم بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں اس کی تصدیق کی ہے کہ چھبیس جون کو مزید آٹھ میتیں روانہ کی گئیں، جبکہ اس سے ایک روز قبل پچیس جون کو چار لاشیں بھارت بھیجی جا چکی تھیں۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ المناک المیہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع برزان گیس سپلائی فیسلٹی میں پیش آیا تھا، جسے قطر کی سرکاری اور معتبر کمپنی ‘قطر انرجی ایل این جی’ چلاتی ہے۔ فیسلٹی کے اندر ہونے والے ایک شدید اور زوردار دھماکے کے نتیجے میں مجموعی طور پر تیرہ افراد موقع پر ہی یا ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے تھے۔ جاں بحق ہونے والے ان محنت کشوں میں بارہ بھارتی اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ خلیجی ممالک میں روزگار کی تلاش میں جانے والے ان غریب اور متوسط طبقے کے مزدوروں کی اچانک موت نے ان کے آبائی وطن میں کہرام مچا دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی آفت کے بعد قطری حکام اور بھارتی سفارت خانے کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے۔ بھارتی سفارت خانے نے میتوں کی شناخت، کاغذی کارروائی کی عجلت میں تکمیل اور ان کی وطن واپسی کے پیچیدہ عمل کو تیز رفتاری سے انجام دینے پر قطری حکومت، مقامی انتظامیہ، خلیج میں سرگرم بھارتی کمیونٹی کی فلاحی تنظیموں اور بھارت کی مختلف سرکاری ایجنسیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں نے غمزدہ اور متاثرہ خاندانوں کو اس کڑے وقت میں ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔

دریں اثنا، قطر میں متعین بھارت کے سفیر وپل اور سفارت خانے کے دیگر اعلیٰ حکام نے الخور اسپتال کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں اس ہولناک صنعتی حادثے میں شدید زخمی ہونے والے متعدد بھارتی شہری زیر علاج ہیں۔ سفارتی وفد نے زخمیوں کی عیادت کی، ان کا حوصلہ بڑھایا اور ہسپتال انتظامیہ سے ان کے علاج معالجے کی تفصیلات حاصل کیں۔ قطری وزارتِ صحت کے مطابق زخمیوں کو بہترین اور عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس پر بھارتی سفیر نے قطری حکومت اور متعلقہ کمپنی کے نمائندوں کی تعریف کی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق اس ہولناک گیس فیسلٹی دھماکے میں مجموعی طور پر چھیاسٹھ افراد زخمی ہوئے تھے، جن کا تعلق قطر، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تاحال تشویشناک بتائی جاتی ہے اور وہ مختلف ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا یہ دھماکہ کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا انتظامی لاپرواہی کا، قطری سیکیورٹی اور صنعتی حکام نے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک حادثات کو روکا جا سکے اور متاثرین کے لیے معاوضے کی راہ ہموار ہو سکے۔

شیئر کریں۔