لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس: این آئی اے نے مزید تین ملزمین کے خلاف داخل کی چارج شیٹ

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے نومبر دو ہزار پچیس میں دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب ہوئے خوفناک کار بم دھماکے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے مزید تین ملزمین کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ اس تباہ کن دھماکے میں گیارہ بے گناہ افراد کی جانیں چلی گئی تھیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے عدالت میں پیش کی گئی اپنی نئی دستاویزات میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین افراد ضمیر احمد آہنگر، طفیل احمد بھٹ اور مظفر احمد عرف فراز کو باقاعدہ ملزم نامزد کیا ہے۔ ان تینوں ناموں کے شامل ہونے کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں اب تک چارج شیٹ کیے گئے ملزمین کی کل تعداد تیرہ ہو گئی ہے، جس میں اس سازش کا مرکزی کردار ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل تھا جس کی موت ہو چکی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین چارج شیٹ میں سب سے اہم نام مفرور ملزم مظفر احمد کا ہے جو پیشے سے ایک چائلڈ اسپیشلسٹ یعنی ماہرِ اطفال (ایم بی بی ایس، ایم ڈی) ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر مظفر احمد دراصل اس کیس کے ایک اور ملزم ڈاکٹر عدیل احمد راتھر کا بڑا بھائی ہے اور وہ القاعدہ سے وابستگی رکھنے والی مبینہ تنظیم ‘انصار غزوہ الہند (اے جی یو ایچ) عبوری’ کے بانی ارکان میں شمار ہوتا ہے۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر مظفر احمد دس نومبر دو ہزار پچیس کو کیے گئے اس مہلک کار بم دھماکے کی اصل اسٹریٹجک پلاننگ اور مجرمانہ سازش میں عمر، مزمل، عدیل اور مفتی عرفان جیسے اہم ملزمین کے ساتھ برابر کا شریک تھا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے ملزمین کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چارج شیٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر مظفر نے جون دو ہزار بائیس میں سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں منعقدہ ایک انتہائی خفیہ میٹنگ میں شرکت کی تھی، جہاں اس عسکری ماڈیول کو تشکیل دینے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایجنسی کے مطابق یہ نیٹ ورک نوجوانوں کو راغب کرنے اور تکنیکی و مالیاتی وسائل کو یکجا کرنے کے لیے کام کر رہا تھا۔

این آئی اے کی تفتیش میں یہ چونکا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ یہ گروپ ہریانہ کے ضلع فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی کے احاطے میں ایک خفیہ آئی ای ڈی (امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس) فیسلٹی چلا رہا تھا۔ مفرور ملزم ڈاکٹر مظفر مبینہ طور پر اس خفیہ مرکز میں عمر اور مزمل کے ساتھ مل کر انتہائی حساس اور خطرناک ٹی اے ٹی پی کیمیکل پر مبنی بارودی مواد تیار کرنے، اس کے تجربات کرنے اور اسے محفوظ ٹھکانوں تک منتقل کرنے کی سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔

اس وقت ڈاکٹر مظفر احمد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے دور اور مفرور ہے، جس کے خلاف عدالت کی جانب سے غیر ضمانتی وارنٹ (این بی ڈبلیو) جاری کیا جا چکا ہے۔ این آئی اے کی خصوصی ٹیمیں مفرور ڈاکٹر کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں اور اس کا سراغ لگانے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کیس کے دیگر پہلوؤں اور نیٹ ورک سے جڑے دیگر مقامی سہولت کاروں کی شناخت کے لیے مزید کارروائی بھی جاری رہے گی تاکہ خطے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

شیئر کریں۔