مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع معروف برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی متنازع تجویز کو فیکلٹی، طلبہ، اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج اور وائس چانسلر کے اچانک استعفیٰ کے بعد مستقل طور پر ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ نام کی تبدیلی کے حوالے سے اب کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور ادارہ اپنے پرانے تاریخی نام سے ہی جانا جائے گا۔ یاد رہے کہ رواں ماہ تین جون کو یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے اس کا نام تبدیل کر کے ہندو دیوی سرسوتی کے نام پر ’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘ کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بعد ریاست بھر میں ایک بڑا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔
اس متنازع تجویز کے سامنے آنے کے بعد اساتذہ، طلبہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے مسلسل دباؤ بڑھ رہا تھا، جبکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ حکام بھی اس تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار سمر بہادر سنگھ نے تصدیق کی ہے کہ نام تبدیل کرنے کی پہل سابق وائس چانسلر سریش کمار جین نے ذاتی طور پر کی تھی اور گزشتہ ہفتے ان کے استعفیٰ کے بعد اس عمل کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کے مطابق اب نام بدلنے کے بجائے یونیورسٹی کے بگڑتے ہوئے انتظامی امور کو درست کرنے اور تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
مخالفت کرنے والے دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ کا موقف تھا کہ راجہ بھوج اور واگ دیوی کے نام پر حکومت کو الگ سے نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں، لیکن اس کی آڑ میں ہندوستان کے ایک عظیم مجاہدِ آزادی اور مسلم دانشور مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی کی تاریخی خدمات اور شناخت کو مٹانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مظاہرین نے الزام لگایا تھا کہ اس تجویز کے پسِ پردہ مسلم تاریخ اور مجاہدینِ آزادی کے ناموں کو سرکاری اداروں سے ہٹانے کی متعصبانہ ذہنیت کارفرما تھی، کیونکہ تجویز میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ خطے کی ترقی میں مولانا برکت اللہ کا کوئی نمایاں کردار نہیں تھا۔
چار سو ایکڑ پر محیط اس عظیم الشان یونیورسٹی کی بنیاد سنہ انیس سو ستر میں رکھی گئی تھی اور ابتدا میں اسے بھوپال یونیورسٹی کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں سنہ انیس سو اٹھاسی میں اس کا نام تبدیل کر کے برکت اللہ یونیورسٹی رکھا گیا تاکہ جنگِ آزادی کے عظیم ہیرو کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ مولانا محمد برکت اللہ بھوپالی ہندوستان کی پہلی جلاوطن عارضی حکومت کے وزیر اعظم تھے، جو یکم دسمبر انیس سو پندرہ کو افغانستان میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی صدارت میں قائم ہوئی تھی۔ وہ غدر تحریک کے سرکردہ رہنما، ممتاز عالمِ دین، بین الاقوامی صحافی اور کثیر اللسانی ماہر تھے، جنہیں عربی، فارسی، انگریزی اور جاپانی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔
مولانا برکت اللہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرونِ ملک وطن کی آزادی کی شمع روشن کرنے میں گزارا۔ انہوں نے لندن، لیورپول اور ٹوکیو کی یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات انجام دیں اور غدر پارٹی کے جریدے کی ادارت سنبھالی۔ انہوں نے جاپان، امریکہ، جرمنی، ترکی، سوویت روس، فرانس اور اٹلی کا طویل انقلابی سفر کر کے عالمی سطح پر برطانوی سامراج کے خلاف فضا ہموار کی۔ عوامی اور علمی حلقوں نے برکت اللہ یونیورسٹی کا نام برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف اور تاریخی سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔



