کاراکاس : جنوبی امریکی ملک وینیزویلا میں بدھ کی شام آنے والے دو یکے بعد دیگرے انتہائی طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 32 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 700 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید ہولناک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6:04 بجے آیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کے محض 39 سیکنڈ بعد آنے والے دوسرے زلزلے نے تباہی کی شدت کو دگنا کر دیا، جس کی شدت 7.5 ماپی گئی۔ دونوں زلزلوں کا مرکز صوبہ یاراکوئی (Yaracuy) کا علاقہ ویرویس تھا، تاہم اس کی گہرائی بالترتیب 22 کلومیٹر اور 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
اس قدرتی آفت کے بعد ملک میں قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے فوری طور پر ملک گیر ‘اسٹیٹ آف ایمرجنسی’ (ہنگامی حالت) کا اعلان کر دیا ہے۔ زلزلوں کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ مرکز سے تقریباً 1,700 کلومیٹر دور برازیل کے ایمیزون خطے تک عمارتیں لرز اٹھیں۔ دارالحکومت کاراکاس کا متمول علاقہ ‘التامیرا’ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں ایک 22 منزلہ رہائشی ٹاور مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا ہے، جس کے ملبے تلے درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وینیزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ فائر بریگیڈ، پولیس اور شہری دفاع کی تمام ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھ کر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ شدید زلزلے کے باعث کاراکاس کا مرکزی ‘سیمون بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے بعد تمام ملکی و بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر کے ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں موبائل نیٹ ورک اور بجلی کا نظام معطل ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چین، فرانس اور ایل سلواڈور سمیت کئی حکومتوں نے وینیزویلا کو ریسکیو ماہرین اور امدادی سامان بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔




