یوپی : بینکوئٹ ہال میں مبینہ بیف سپلائی کے الزام کے بعد گرانے کا نوٹس، دولہے سمیت چارافرادگرفتار

اتر پردیش کے ضلع شاملی کے حساس قصبے کیرانہ میں انتظامیہ کی جانب سے ایک بڑی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں ایک شادی کی تقریب میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت (بیف) پیش کیے جانے کے الزام کے بعد ایک بینکوئٹ ہال کو سیل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے ہال کو غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے دولہا، بینکوئٹ ہال کے مالک اور باورچی سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ مسلم اکثریتی علاقے کیرانہ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس ہائی الرٹ پر ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

دستیاب رپورٹوں کے مطابق یہ پورا معاملہ کیرانہ کے ‘مغل بینکوئٹ ہال’ کا ہے، جہاں 18 جون کو شادی کی ایک تقریب منعقد ہوئی تھی۔ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ تقریب میں مہمانوں کو مبینہ طور پر گائے کا گوشت پیش کیا گیا ہے۔ اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد مقدمہ درج کیا اور معاملے سے جڑے افراد کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔ شاملی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے جونیئر انجینئر جگدیو سنگھ کے مطابق، مغل بینکوئٹ ہال کی عمارت بغیر کسی لازمی منظوری کے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ اتھارٹی نے ہال کے مالک کو باضابطہ نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی تھی کہ اس غیر مجاز ڈھانچے کو کیوں نہ منہدم کر دیا جائے۔ مالک کی طرف سے مقررہ وقت میں کوئی جواب نہ ملنے پر انتظامیہ نے عمارت کو سیل کر دیا اور اب اسے مسمار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریب کے لیے گوشت ایک لاوارث گائے کو ذبح کر کے حاصل کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں پولیس نے دولہا فرمان، اس کے چچا سلمان، بینکوئٹ ہال کے مالک انیس احمد اور باورچی خلیل کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے اس کار کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے جو مبینہ طور پر دولہے کو تحفے میں دی گئی تھی اور الزام ہے کہ اسی گاڑی کا استعمال گوشت کی نقل و حمل کے لیے کیا گیا تھا۔ انتظامیہ اور پولیس کی اس یکطرفہ اور تیز رفتار کارروائی پر مقامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں ایک جرم کے مبینہ الزام کے فوری بعد پوری عمارت کو منہدم کرنے کی روایت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اتر پردیش میں حالیہ برسوں کے دوران ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں کسی بھی فوجداری مقدمے یا الزام کے بعد ملزمان کی جائیدادوں اور کاروباری مراکز کو بلڈوزر کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور قانونی ماہرین اکثر اس طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جرم ثابت ہونے سے قبل ہی جائیدادوں کو مسمار کرنا قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ کیرانہ جیسے حساس اضلاع میں اس نوعیت کے اقدامات سے اقلیتی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کا احساس مزید گہرا ہونے کا خدشہ رہتا ہے، خاص طور پر جب انتظامیہ عام قوانین کے بجائے چیدہ چیدہ معاملات میں زیادہ سخت رخ اختیار کرتی ہے۔

شاملی ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاست میں گائے کی اسمگلنگ، ذبیحہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ‘زیرو ٹولرینس’ کی پالیسی برقرار رہے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ گرفتار کیے گئے چاروں افراد کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بلڈوزر کارروائی کے لیے اگلے قانونی مراحل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ مقامی معززین نے امن و امان برقرار رکھنے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بھی بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔

شیئر کریں۔