سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ، ایم سی ایکس پر سونا 1600 اور چاندی 1000 روپے سے زیادہ سستا

ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر بدھ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن بھی زبردست گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے خریداری کا ایک بہترین موقع پیدا ہو گیا ہے۔ کاروباری ہفتے کے تیسرے دن صبح کے ابتدائی اوقات میں دونوں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم بعد میں مارکیٹ نے کچھ حد تک سنبھلنے کی کوشش کی۔ تجارتی حلقوں کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کا مسلسل مضبوط ہونا اور بین الاقوامی دباؤ ہے۔

مارکیٹ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح اگست ڈیلیوری والا سونا فی 10 گرام 1600 روپے سے زائد کی بڑی کمی کے ساتھ 144918 روپے پر کاروبار کر رہا تھا۔ اسی طرح جولائی ڈیلیوری والی چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ فی کلو 1000 روپے سے زائد کی مندی کے ساتھ 224793 روپے پر پہنچ گئی۔ کاروباری دن کے آغاز کے پہلے گھنٹے میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب سونا تقریباً 2400 روپے اور چاندی 4000 روپے تک سستی ہو گئی تھی، لیکن بعد میں اس میں جزوی بہتری آئی۔ اس سے قبل پیر اور منگل کو بھی بازار میں مندی کا رجحان غالب رہا تھا۔

عالمی سطح پر بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمزوری دیکھی جا رہی ہے اور بدھ کی صبح بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 1.75 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 4077.70 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ چاندی کی قیمت 1.69 فیصد کم ہو کر 61.02 ڈالر فی اونس پر آگئی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر انڈیکس کا بڑھ کر 101.265 کی سطح پر پہنچنا، جو گزشتہ 12 مہینوں کی بلند ترین سطح ہے، سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوا ہے۔ جب بھی امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیش نظر دنیا کے کئی بڑے مرکزی بینکوں نے شرح سود میں اضافے کے اشارے دیے ہیں۔ حال ہی میں امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ کیون وارش کی جانب سے سال 2026 میں شرح سود بڑھانے کے امکانات ظاہر کیے جانے کے بعد سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کے بجائے ڈالر کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس نے سونے چاندی کے بازار کو مزید متاثر کیا ہے۔

مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر عالمی سیاسی حالات اور ڈالر کی پوزیشن مستحکم نہیں ہوتی تو قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال مقامی سطح پر جیولرز اور عام خریداروں کے لیے یہ گراوٹ شادی بیاہ کے سیزن اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایک سازگار موقع فراہم کر رہی ہے، کیونکہ طویل عرصے بعد قیمتوں میں اتنی بڑی یکمشت کمی دیکھی گئی ہے۔

شیئر کریں۔