بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کی نئی تشکیل شدہ کابینہ میں مسلم کمیونٹی کو مزید وزارتیں دینے کے جارحانہ مطالبات پر ریاست کے سینئر کانگریس لیڈر اور نو منتخب وزیر یو ٹی قادر نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایک نیا واضح پیغام دیا ہے۔ انہوں نے اضافی وزارتی قلمدانوں کا مطالبہ کرنے والے مسلم رہنماؤں کو کہا کہ کانگریس انتظامیہ مکمل طور پر میرٹ، قابلیت اور تنظیمی وفاداری کے اصولوں پر کام کرتی ہے اور اسے ایسے افراد سے کسی سیاسی یا تزویراتی مشورے کی ضرورت نہیں ہے جو زمینی سطح پر پارٹی کی مضبوطی کے لیے سرگرم نہیں رہتے۔
یہ تنازع حال ہی میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشورا کی قیادت میں کرناٹک میں ہونے والی کابینہ کی تشکیل کے بعد شروع ہوا ہے۔ ابتدائی 12 رکنی کابینہ کے حلف لینے کے بعد، کئی اقلیتی سماجی و مذہبی تنظیموں نے عوامی سطح پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ حکمراں پارٹی کو بڑے پیمانے پر انتخابی حمایت دینے کے باوجود مسلم کمیونٹی کو مناسب نمائندگی نہیں ملی ہے۔ ان شکایات پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یو ٹی قادر نے پارٹی کے انتخاب کے طریقہ کار کا دفاع کیا اور واضح کیا کہ وزارتی عہدوں کی تقسیم کسی کمیونٹی کے دباؤ کے ہتھکنڈوں کے بجائے انتظامی تجربہ، علاقائی توازن اور طویل مدتی تنظیمی وفاداری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ کانگریس پارٹی تمام برادریوں میں اقلیتی بہبود، سماجی انصاف اور مساوی ترقی کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پیچیدہ طرزِ حکومت اور انتظامی تقرریوں کو محض فرقہ وارانہ کوٹے تک محدود کرنے کی کوششیں جمہوری عمل کو کمزور کرتی ہیں اور ریاست کے بنیادی ترقیاتی ایجنڈے سے توجہ ہٹاتی ہیں۔ انہوں نے ناراض رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ سطح کی سیاسی لابی کے بجائے اپنی توانائی نچلی سطح پر فلاحی کاموں میں لگائیں۔




