مساجد ، مدارس سے عیدگاہوں تک: 45 دنوں میں 23 مقامات پر بلڈوزر کارروائی،تمام کارروائیاں بی جے پی ریاستوں میں

ہندوستان میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق اور ان کی صدیوں پرانی تاریخی وراثت کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق، گزشتہ محض 45 دنوں کے اندر ملک کی مختلف بی جے پی مقتدر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 23 سے زائد مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور تاریخی درگاہوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا ہے۔ امریکی انسانی حقوق کی تنظیم ‘جسٹس فار آل’ سمیت متعدد ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے اس مہم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان تمام معاملات میں طے شدہ قانونی ضابطوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور کسی بھی کارروائی سے قبل انتظامیہ کی جانب سے کوئی پیشگی قانونی نوٹس تک جاری نہیں کیا گیا۔ یہ مسماری مہم اتر پردیش، دہلی، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں چلائی گئی ہے، جس نے مسلم اقلیت کے اندر عدم تحفظ اور خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

ملی معلومات کے مطابق، اس بلڈوزر قہر کا آغاز مئی کے اوائل میں ہوا جب دہلی کے منگول پوری صنعتی علاقے میں واقع تقریباً 200 سال پرانی ‘دگاہ پنچ پیراں’ کے ایک بڑے حصے کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ منہدم کر دیا۔ اس کے بعد دہلی ہی کے پیتم پورہ میں ایک بی جے پی ایم ایل اے کی قیادت میں مبینہ طور پر ایک زیر تعمیر مدرسے کی دیوار کو منہدم کیا گیا۔ ہریانہ کے فرید آباد میں واقع 50 سال پرانی ‘مسجد چوک’ کو ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے نام پر صبح ہونے سے پہلے ہی مسمار کر دیا گیا، جبکہ اس کے قریبی غیر مسلم مذہبی مقامات کو چھوا تک نہیں گیا۔ مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے بانڈرا ایسٹ علاقے میں دو مساجد اور گوریگاؤں میں 70 سال پرانی ‘حضرت سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ’ کو آرے کالونی میں تجاوزات کے نام پر منہدم کیا گیا، جس کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج بھی درج کرایا۔ پونے کے بوپوڈی میٹرو اسٹیشن کے پاس موجود 100 سالہ ‘حضرت شمس الدین قادری درگاہ’ کو راتوں رات منہدم کرنے پر مہا وکاس اگھاڑی نے کارپوریشن ہیڈ کوارٹر پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔

اتر پردیش اور راجستھان میں یہ کارروائیاں مزید سنگین رخ اختیار کر گئیں۔ یوپی کے ضلع سنبھل میں مئی اور جون کے دوران ایک 500 سال پرانی درگاہ، مسجد مصطفیٰ قادری اور عیدگاہ دولت پور کی باؤنڈری وال کو بلڈوزر سے ڈھا دیا گیا۔ مسجد مصطفیٰ قادری کے معاملے میں انتظامیہ نے الٹا متولی سمیت آٹھ افراد پر مقدمہ درج کر دیا کیونکہ وہاں سے مذہبی پوسٹرز برآمد ہوئے تھے، جس پر حقوق انسانی کے کارکنوں نے سخت اعتراض اٹھایا۔ وارانسی (کاشی) ریلوے اسٹیشن کی توسیع کے نام پر 200 سال پرانی ‘عجائب شہید مسجد’ کو رات کے اندھیرے میں شہید کر دیا گیا، اور اب وہیں قریب موجود 1000 سال پرانی تاریخی ‘مسجد گنج شہدا’ پر بھی ریلوے انتظامیہ نے مسماری کا نوٹس چسپاں کر دیا ہے، جسے مسجد کمیٹی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ادھر راجستھان کے جے پور میں 1981 سے قائم ‘نورانی مسجد’ کو سڑک کشادہ کرنے کے نام پر 3,000 پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور انٹرنیٹ کی معطلی کے درمیان منہدم کیا گیا، جبکہ بارمیر ضلع کے مالانا گاؤں میں قانونی کارروائی زیر التوا ہونے کے باوجود ایک ہی دن میں چار مساجد پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔ گجرات میں بھی ایک ہی دن میں تین درگاہوں اور ایک مسلم قبرستان کو مسمار کرنے کا واقعہ پیش آیا، جس نے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔

اس پورے معاملے پر عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ واشنگٹن میں قائم مسلم وکالتی گروپ ‘جسٹس فار آل’ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے مودی حکومت کے تحت مسلم عبادت گاہوں کی مسماری میں آئی تیزی کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ سنبھل، وارانسی اور جے پور میں محض پانچ دنوں کے اندر تین بڑی مساجد کو گرانا ظاہر کرتا ہے کہ قانون کے یکساں نفاذ کے بجائے مسلم کمیونٹی کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے دانشوروں، سول سوسائٹی اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ‘نفرت انگیز سیاست’ کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ ماہرین اور حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک کے صدیوں پرانے مشترکہ کلچر اور پرامن بقائے باہمی کے تانے بانے کو بھی تار تار کر رہی ہیں۔

شیئر کریں۔