نئے ہجری سال کے آغاز کے مبارک موقع پر روایات کے مطابق مسجد الحرام میں کعبۃ اللہ کا غلاف (کسوہ) تبدیل کر دیا گیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے لیے تیاریاں پیر کی شام سے ہی شروع کر دی گئی تھیں اور منگل کی صبح انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ پرانے غلاف کو اتار کر نیا کسوہ لگانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔ اس روح پرور تقریب کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں زائرین مسجد الحرام میں موجود تھے۔
کسوہ کی تیاری اور مینوفیکچرنگ سے متعلق کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلافِ کعبہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، غلافِ کعبہ کو دنیا کا مہنگا ترین لباس مانا جاتا ہے۔ اس کی تیاری میں لگ بھگ 825 کلوگرام خام ریشم استعمال کیا جاتا ہے جسے اٹلی سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ریشمی کپڑے پر قرآنی آیات کی کڑھائی کے لیے 120 کلوگرام چاندی کی تار جس پر 24 قیراط سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے، اور 60 کلوگرام خالص چاندی استعمال ہوتی ہے۔ اندرونی استر کے لیے 410 کلوگرام خام روئی کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس پورے غلافِ کعبہ کا کل وزن 1410 کلوگرام تک پہنچ جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر کے لحاظ سے ماضی میں غلافِ کعبہ نو ذی الحجہ (یومِ عرفہ) کو تبدیل کیا جاتا تھا، لیکن خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے شاہی فرمان کے بعد اب یہ مقدس عمل ہر سال یکم محرم الحرام یعنی نئے اسلامی سال کے پہلے دن انجام دیا جاتا ہے۔ غلافِ کعبہ کی تیاری پر سالانہ تقریباً 25 ملین سعودی ریال (قریباً 55 کروڑ ہندوستانی روپے) کی لاگت آتی ہے اور اسے کنگ عبدالعزیز کمپلیکس میں 200 سے زائد سعودی ماہرین اور کاریگر نہایت نفاست اور جدید مشینوں کی مدد سے تیار کرتے ہیں۔ اتارے گئے پرانے غلافِ کعبہ کو ٹکڑوں کی شکل میں مختلف ممالک کے سربراہان، سفیروں اور دنیا بھر کے نامور اسلامی اداروں کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔




