مغربی ایشیا میں تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری شدید فوجی تناؤ اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے بحران کے بعد بالآخر ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت لبنان سمیت تمام فعال محاذوں پر فوجی آپریشنز کو فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین بین الاقوامی کامیابی کی تصدیق پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کی ہے۔ اس معاہدے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سخت بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹانے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھولنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ فریقین کے درمیان اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوگی۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک باضابطہ پیغام میں اس سفارتی پیش رفت کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طویل اور گہری پس پردہ بات چیت کے بعد امریکہ اور ایران اس عظیم معاہدے پر متفق ہوئے ہیں۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری اس سنگین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے دونوں ممالک کے عزم کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے اس پیچیدہ سفارتی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں قطر کی عظیم قیادت کے مخلصانہ اور کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مملکت سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کی دور اندیش قیادت کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی انتھک کوششوں اور بے پناہ شراکت داری نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلوں کو مٹانے اور اس خطے کو ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم ترین ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس نے دونوں ممالک کے مابین رابطوں کو ممکن بنایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دنیا بھر کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے غیر محدود طور پر کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عملی طور پر ناکہ بندی ہٹانے اور آبی گزرگاہ کو بحال کرنے کا عمل جمعہ کو جنیوا میں ہونے والے باضابطہ دستخطوں کے بعد شروع ہوگا۔ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری میڈیا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران جمعہ کو دستخط ہونے کے بعد ہی اس پر عمل درآمد کا آغاز کرے گا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ تمام محاذوں پر جنگ فوری طور پر ختم ہو رہی ہے اور مستقل جنگ بندی کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے بدلے امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا تاکہ ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے اور معیشت کو سنبھالنے کا موقع مل سکے۔ جنیوا تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی خود وہاں جانے کا اشارہ دیا ہے۔
ان تمام مثبت پیش رفتوں کے باوجود یہ معاہدہ عالمی سطح پر گہرے اسٹریٹجک اثرات اور تنقید کی زد میں بھی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور معاشی پابندیوں جیسے انتہائی پیچیدہ اور کانٹے دار مسائل پر تفصیلی گفتگو کے لیے اگلے 60 دنوں تک دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور ضرورت پڑنے پر اس ٹائم لائن میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی انتظامیہ نے اب تک اس معاہدے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم اس نے پس پردہ ان مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے رواں سال 28 فروری کو امریکہ کے ساتھ مل کر اس فوجی کشیدگی کا آغاز کیا تھا جس نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے کچھ اعلیٰ رہنماؤں نے بھی اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شرائط 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے بہتر نہیں ہیں اور اس سے ایران کو خطے میں دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
توانائی اور دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے باوجود دنیا بھر میں تیل اور گیس کی آزادانہ اور محفوظ سپلائی کو بحال ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی شپنگ اور انشورنس کمپنیاں اس بات کی ٹھوس ضمانت مانگیں گی کہ یہ امن معاہدہ طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔ ماہرین نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اگر مستقبل میں حالات دوبارہ کشیدہ ہوتے ہیں تو تہران کے پاس اب بھی اپنا جدید میزائل پروگرام، خطے میں سرگرم مسلح تنظیموں کی حمایت اور اپنے جوہری پروگرام کے لیے انتہائی افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو مذاکرات میں اس کے موقف کو کمزور نہیں ہونے دے گا۔ عالمی برادری اس وقت مسلم ممالک کی اس کامیاب سفارت کاری کو سراہ رہی ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں امن کی ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔




