مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور ماحول کو خراب کرنے کی ایک مبینہ کوشش کا انتہائی چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ عید کے دن شہر کی ایک ہندو اکثریتی برہمن گلی میں کچرے کے ڈھیر سے گوشت ملنے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی تھی۔ ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک برقع پوش خاتون کو گوشت پھینکتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کے بعد مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم کوتوالی پولیس کی 13 دنوں کی طویل اور گہرائی سے کی گئی تفتیش کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ برقع اوڑھ کر گوشت پھینکنے والی خاتون مسلم نہیں بلکہ ایک غیر مسلم سواتی وکرم بھوسلے ہے۔
احمد نگر شہر کی برہمن گلی میں 28 مئی کو عید الاضحیٰ کے روز کچرے کے ڈھیر میں گوشت پڑا ہوا ملا تھا۔ اس حساس علاقے میں گوشت ملنے کی وجہ سے شہر کا امن و امان خطرے میں پڑ گیا تھا اور شرپسند عناصر کی جانب سے معاملے کو طول دینے کی کوشش کی گئی۔ صفائی کی نگرانی کرنے والے میونسپل افسر نے فوری طور پر کوتوالی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ احمد نگر کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے جہاں پہلے بھی کئی بار فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششیں ہو چکی ہیں پولیس نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا۔
پولیس نے برقع پوش خاتون کی شناخت اور اس کا سراغ لگانے کے لیے مختلف علاقوں میں نصب تقریباً ڈیڑھ سو سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو باریکی سے کھنگالا۔ تفتیشی ٹیم نے ان خواتین سے بھی سخت پوچھ تاچھ کی جو فوٹیج میں اس مشتبہ برقع پوش خاتون کے ساتھ دیکھی گئی تھیں۔ تقریباً دو ہفتوں کی کڑی محنت کے بعد پولیس احمد نگر کے نگر تعلقہ میں واقع کامر گاؤں کی رہائشی سواتی وکرم بھوسلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ گرفتاری کے بعد جب اس سے تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ عید کے دن برقع پہن کر گوشت اسی نے پھینکا تھا۔
سواتی بھوسلے نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھیک مانگ کر اپنے اور اپنے تین بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ اس نے بتایا کہ عید کے دن وہ مسلم علاقوں میں گوشت اور امداد مانگنے گئی تھی اور اسی لیے اس نے برقع اوڑھ رکھا تھا تاکہ اسے آسانی سے گوشت مل سکے۔ اس کے بقول ایک جگہ سے اسے گوشت دیا گیا تھا لیکن وہ اسے استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے وہ گوشت برہمن گلی میں لے جا کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خاتون واقعی بھیک مانگ کر گزارا کرتی ہے لیکن اس کے بیان کے پیچھے چھپے اصل محرکات پر تفتیش اب بھی جاری ہے۔
اس حساس معاملے پر شیوسینا (ادھو بال ٹھاکرے) کے مقامی رہنما کرن کالے نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خاتون کے بیان پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض بھیک مانگنے کے لیے کسی غیر مسلم خاتون کو برقع پہننے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر اسے گوشت نہیں چاہیے تھا تو وہ دینے والے کو موقع پر ہی واپس کر سکتی تھی اسے ایک مخصوص ہندو اکثریتی گلی میں لے جا کر کچرے میں پھینکنے کا کیا مقصد تھا؟ کرن کالے نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ سماج میں منافرت پھیلانے اور دو برادریوں کو آپس میں لڑوانے کی ایک گہری سیاسی یا سماجی سازش ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کرے تاکہ اگر اس کے پیچھے کوئی ماسٹر مائنڈ ہے تو اسے بے نقاب کیا جا سکے۔
احمد نگر پولیس اب اس پہلو پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے کہ آیا سواتی بھوسلے نے یہ قدم اپنی نادانی میں اٹھایا یا وہ کسی ایسے گروہ کا حصہ ہے جو شہر کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔ عید کے موقع پر اس طرح کا واقعہ رونما ہونا اور پھر اس میں مسلم بھیس کا استعمال کرنا ایک سوچی سمجھی پلاننگ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقامی امن پسند شہریوں اور مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے پولیس کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی ستائش کی ہے جس نے بروقت حقیقت سامنے لا کر شہر کو ایک بڑے ممکنہ حادثے اور فرقہ وارانہ تصادم سے بچا لیا۔



