پونے میں مساجد کے انہدام کے بعد کشیدگی، 300 مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا اندیشہ،

مہاراشٹر کے صنعتی شہر پونے کے کڈال واڑی اور چکھلی علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے مساجد کے مبینہ غیر قانونی انہدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث مقامی مسلم آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ چشتیہ مسجد، ابوہریرہ مسجد، مسجد نعیم، مسجد علی اور خدیجہ مسجد کوہ نور کالونی کڈال واڑی کو منہدم کیے جانے کے دوران شدید عوامی ردعمل اور پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس اب تک 36 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر چکی ہے، لیکن عوامی حلقوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا یہ آپریشن یہیں رکنے والا نہیں ہے بلکہ مزید 300 نوجوانوں کی گرفتاری کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پورے علاقے میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔

مقامی باشندوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور اسپیشل برانچ کے افسران مسلسل مسلم اکثریتی علاقوں میں گشت کر رہے ہیں، جس سے خوف کا ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ کئی نوجوان اور خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس رات کے اندھیرے میں گھروں کے دروازوں پر دستک دیتی ہے، جس سے خواتین اور بچے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ سماجی کارکن ڈاکٹر سعید احسن قادری نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن چوراہوں اور چائے خانوں پر رات دیر گئے تک چہل پہل رہتی تھی، وہاں اب مکمل سناٹا چھایا ہوا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اگر کارپوریشن کی یہ کارروائی قانون کے مطابق تھی تو اس کے لیے رات کا وقت کیوں منتخب کیا گیا؟ کیا کارپوریشن کو خود اپنی کارروائی کے درست ہونے پر شبہ تھا؟

مسلم جماعت پمپری کے رہنما شہاب الدین شیخ نے بھی تصدیق کی ہے کہ علاقے میں 300 سے زائد نوجوانوں کی گرفتاری کے خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں پولیس حکام سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔ سنیچر کو پولیس کمشنر کے ہمراہ ہونے والی ایک اہم میٹنگ کو اچانک پیر تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کے بارے میں مقامی رہنماؤں کا قیاس ہے کہ پولیس اس وقفے کا استعمال مزید گرفتاریوں کے لیے کر سکتی ہے۔ دوسری جانب، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کارپوریشن کی اس متنازعہ انہدامی کارروائی کے خلاف اب عدالت نے فی الحال اسٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، جس سے کارپوریشن کے عجلت میں کیے گئے اقدامات پر قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

علاقے کی صورتحال اور سنگین الزامات کے حوالے سے چکھلی تھانے کے سینئر انسپکٹر وٹھل سالونکھے نے بتایا کہ 300 نوجوانوں کی گرفتاری کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس ڈرون کیمروں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور موقع پر لی گئی تصاویر کی مدد سے پتھراؤ میں ملوث افراد کی شناخت کر رہی ہے۔ انسپکٹر سالونکھے نے پولیس کی جانب سے رات میں بلاوجہ دروازے کھٹکھٹانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفتیش دو بنیادوں پر کی جا رہی ہے؛ اول یہ کہ تشدد میں کون سرگرم تھا اور دوم یہ کہ جرم کرنے والوں کا ساتھ کن لوگوں نے دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی بے قصور شہری کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، لیکن قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی بہرحال مکمل کی جائے گی۔

اس پورے واقعے نے مقامی مسلم کمیونٹی کے حقوق اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کے مقامی کارکنان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی کی آڑ میں ایک مخصوص برادری کو ہدف بنانا اور پوری آبادی میں خوف کا ماحول پیدا کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ مقامی مسلم رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اپنی تفتیش کو شفاف بنائے اور کسی بھی قسم کی یکطرفہ کارروائی یا بے قصور نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ سے گریز کیا جائے تاکہ علاقے میں امن و امان بحال ہو سکے۔

شیئر کریں۔