بھارت میں 100 فیصد ایتھنول سے چلنے والی گاڑیوں کو منظوری، نتن گڈکری کا بڑا اعلان

بھارت میں متبادل ایندھن اور ماحول دوست توانائی کے شعبے میں ایک بہت بڑی اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نیتن گڈکری نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ملک میں 100 فیصد ایتھنول یعنی ای 100 ایندھن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ضروری فریم ورک اور متعلقہ فائل کو منظور کر لیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد اب ملک میں گاڑیوں کو مکمل طور پر پٹرول کے بجائے ایتھنول پر چلانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جس سے ملک کے خطیر بجٹ اور ماحول دونوں پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

ناگپور میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن گڈکری نے اس اہم فیصلے کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات آٹھ بجے انہوں نے اس اہم فائل پر دستخط کیے جو 100 فیصد ایتھنول کو قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ نیتن گڈکری کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت ہر سال تقریباً 22 لاکھ کروڑ روپے مالیت کا خام تیل دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے ملکی معیشت پر شدید مالی بوجھ پڑتا ہے۔ ایتھنول پٹرول کا ایک سستا اور بہترین متبادل بن کر ابھرا ہے، اور مستقبل میں بائیو فیول، گیس اور دیگر مقامی توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر اس درآمدی انحصار کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے ماروتی سوزوکی کی فلیکس فیول ویگنار گاڑی کی مثال دی جو مکمل طور پر 100 فیصد ایتھنول پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکنالوجی صرف کاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ دو پہیہ گاڑیوں کے شعبے میں بھی نمایاں کام ہو رہا ہے۔ ہیرو موٹرکورپ نے پہلے ہی اپنی دو موٹر سائیکلیں 100 فیصد ایتھنول پر چلنے والے ماڈل کے طور پر پیش کر دی ہیں۔ نیتن گڈکری نے دعویٰ کیا کہ آئندہ دو ماہ کے اندر سوزوکی، ٹویوٹا اور ہیونڈائی جیسی دنیا کی بڑی آٹوموبائل کمپنیاں بھی بھارتی مارکیٹ میں ایسی کاریں اور گاڑیاں متعارف کرانے جا رہی ہیں جو مکمل طور پر ایتھنول ایندھن کا استعمال کریں گی۔

اس طویل سفر کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور تنقید کا ذکر کرتے ہوئے نیتن گڈکری نے کہا کہ جب انہوں نے ابتدا میں متبادل ایندھن کا وژن پیش کیا تھا تو مختلف حلقوں کی جانب سے ان کا مذاق اڑایا گیا اور اس ٹیکنالوجی کے خلاف غلط معلومات پھیلائی گئیں۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک بار ایک شخص نے انہیں فون پر شکایت کی کہ ایتھنول کے استعمال کی وجہ سے اس کی جیپ خراب ہو گئی ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ گاڑی ڈیزل پر چلتی تھی اور ڈیزل میں ایتھنول شامل ہی نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے اور تمام حقائق عوام کے سامنے ہیں کہ ایتھنول نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ معاشی طور پر بھی ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ناگپور کی مقامی ترقیاتی اسکیموں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن حکومت کے تحت شہر میں انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا گیا ہے جس کے تحت میٹرو ریل، آکسیجن پارک، برڈ پارک، ایڈونچر پارک اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سمیت متعدد بڑے اور عوامی نوعیت کے منصوبے یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا ان پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ایتھنول کو قانونی منظوری ملنے کے بعد اب امید کی جا رہی ہے کہ بھارتی آٹو انڈسٹری میں گرین انرجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

شیئر کریں۔