ہندوستان سمیت ایشیا کے مختلف خطوں میں صدیوں سے رائج کیلے کے پتے پر کھانا پیش کرنے اور کھانے کی روایت کے پیچھے اب حیرت انگیز طبی اور سائنسی فوائد سامنے آئے ہیں۔ ماہرینِ صحت اور طبی تحقیقی جائزوں کے مطابق، یہ روایتی طریقہ نہ صرف صحت کو بہتر بنانے میں انتہائی مفید ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کیلے کے پتوں میں قدرتی طور پر ‘پولی فینولز’ پائے جاتے ہیں، جو کہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اجزا انسانی جسم میں موجود فری ریڈیکلز کے مضر اثرات کو کم کر کے مختلف دائمی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے کے پتوں میں بہترین اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں، جو کھانے میں موجود بعض نقصان دہ جراثیم اور بیکٹیریا کی افزائش کو روکتی ہیں، جس سے فوڈ پوائزننگ اور دیگر بیماریوں کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ جب گرم کھانا کیلے کے پتے پر رکھا جاتا ہے، تو پتے میں موجود قدرتی تیل اور مومی اجزا پگھل کر کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں، جو اس کے ذائقے اور خوشبو کو لاجواب بناتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی غذائی افادیت میں بھی اضافہ کرتے ہیں کیونکہ ان پتوں میں وٹامن اے، وٹامن سی اور دیگر مفید اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پر کھانا کھانے سے نظامِ ہاضمہ متحرک ہوتا ہے اور معدے پر بوجھ کم پڑتا ہے۔
دوسری طرف ماحولیاتی ماہرین بھی اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کیونکہ یہ پتے مکمل طور پر بائیو ڈیگریڈیبل (قدرتی طور پر ختم ہونے والے) ہیں، جو پلاسٹک اور ڈسپوزایبل برتنوں کا ایک بہترین اور محفوظ متبادل ہیں۔




