دہلی فسادات 2020: شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کے لیے نئی درخواستیں دائر، پولیس سے جواب طلب

سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے کیس میں محبوس ممتاز نوجوان کارکنان شرجیل امام اور عمر خالد نے دہلی کی ایک عدالت میں ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ ان درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے چھ ماہ قبل ان کی سابقہ اپیلیں خارج کیے جانے کے باوجود نچلی عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی میں کوئی ٹھوس یا قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے سے بغیر کسی ٹرائل کے سلاخوں کے پیچھے دن گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ نئی درخواستیں ایڈیشنل سیشن جج سومیدھ سینی کی عدالت کے سامنے پیش کی گئیں، جنہوں نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس حساس معاملے پر باقاعدہ سماعت کے لیے چار جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ شرجیل امام نے اپنی درخواست میں عدالت کو مطلع کیا ہے کہ وہ گزشتہ چھ سالوں سے مسلسل حراست میں ہیں اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بغیر کسی جرم کے ثابت ہوئے قید میں گزر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پانچ جنوری کو سپریم کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد بھی استغاثہ کی جانب سے کیس کو آگے بڑھانے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے فروری 2020 کے دہلی فسادات کی بڑی سازش کے کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا، جبکہ اسی کیس میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو راحت دیتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ بنچ نے اس وقت اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ خالد اور امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں انسداد ایکٹ یعنی یو اے پی اے کے تحت پہلی نظر میں مقدمہ بنتا ہے، تاہم عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کے کردار کی سطح ایک جیسی نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے کارکن گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر متعدد دانشوروں و کارکنوں کے خلاف دہلی پولیس نے یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی مختلف سخت دفعات کے تحت مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ فروری 2020 میں ہونے والے شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ یاد رہے کہ یہ پرتشدد واقعات متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ملک گیر پرامن مظاہروں کے دوران سنگھ پریوار کے رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد پھوٹ پڑے تھے، جس میں 53 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، جبکہ 700 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے نوجوان مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کو یو اے پی اے جیسے کالے قانون کے تحت طویل عرصے تک بغیر ٹرائل کے جیل میں رکھنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ناقدین کے مطابق، حکومت پرامن احتجاجی تحریک کو کچلنے اور اقلیتی برادری کی آواز کو دبانے کے لیے ان قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔ اب جبکہ چار جولائی کو دہلی پولیس عدالت کے سامنے اپنا جواب داخل کرے گی، یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ضلعی عدالت اس طویل حراست اور سست رفتار عدالتی عمل کے پیش نظر ان نوجوانوں کو راحت فراہم کرتی ہے یا نہیں۔

شیئر کریں۔