آسام کے ضلع کاchar (کیچار) میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کے خلاف مسلم برادری نے اپنی شدید ناراضگی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ضلع کے علاقے بیرینگا میں واقع ایک جامع مسجد کے باہر سینکڑوں کی تعداد میں مقامی لوگ جمع ہوئے اور حکومت کے اس قانون کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مسلم مظاہرین کا الزام ہے کہ اس قانون کے ذریعے مسلم کمیونٹی اور ان کے مذہبی قوانین کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ ملک کے جمہوری اور کثیر الثقافتی تانے بانے کے خلاف ہے۔
جمعہ کی نماز کے فوراً بعد شروع ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے عطاء الرحمن مجربھویاں نے میڈیا اور عوام کے سامنے مسلم برادری کے تحفظات کو تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے قانون کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسام حکومت نے جس انداز میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا ہے، اس کا بنیادی مقصد اسلام اور مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کرنا ہے۔ انہوں نے اس مفروضے کو یکسر مسترد کر دیا کہ مسلم پرسنل لا خواتین کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہا ہے، اور دلیل دی کہ اسلامی قوانین میں خواتین کو مکمل حقوق اور تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
سابق ایم ایل اے نے قانون کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) یعنی قبائلی برادریوں کو اس قانون سے باہر رکھنے پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی پورے ملک یا ریاست میں تمام شہریوں کے لیے ‘برابری’ کا دعویٰ کرتی ہے، تو پھر کچھ مخصوص برادریوں کو اس قانون کے دائرے سے کیوں مستثنیٰ کیا گیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ بعض طبقات کو چھوٹ دینا خود ثابت کرتا ہے کہ یہ قانون یکساں نہیں بلکہ مخصوص ایجنڈے کے تحت لایا گیا ہے۔ انہوں نے تعدد ازدواج (ایک سے زیادہ شادیاں) کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ اعداد و شمار کے برعکس مسلم کمیونٹی کو اس معاملے میں بدنام کیا جاتا ہے۔ سرکاری اور آزاد سروے رپورٹس جیسے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے مطابق بھی مختلف دیگر برادریوں اور قبائلی علاقوں میں یہ شرح مسلم برادری کے لگ بھگ یا بعض جگہوں پر مختلف نوعیت کی ہے، اس لیے صرف ایک برادری کو ہدف بنانا ناانصافی ہے۔
مقررین نے برصغیر کی آزادی اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ مسلم برادری ملک کے وفادار شہریوں پر مشتمل ہے اور وہ اپنے آئینی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ مظاہرین نے بھارتی آئین کی دفعہ 25 کا حوالہ دیا، جو ہر شہری کو اپنے عقیدے اور مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے مذہبی قوانین اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب، آسام کی ریاستی حکومت مسلسل یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا دفاع کر رہی ہے۔ حکومتی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کا مقصد دیوانی معاملات میں یکسانیت لانا اور خاص طور پر خواتین کو مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اس قانون نے ریاست میں ایک نئی بحث اور سیاسی و سماجی تفریق کو جنم دے دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے تحفظات کو سنے بغیر اور ان کی مذہبی روایات کو نظر انداز کر کے ایسے قوانین نافذ کرنے سے عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور عوامی تحریک کے مزید تیز ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔



