مدھیہ پردیش :نذیر ماب لنچنگ ، چار سال بعد ملا انصاف ، 14 ملزمان کو عمر قید

مدھیہ پردیش کی ایک مقامی عدالت نے سال 2022 میں گائے کی اسمگلنگ کے جھوٹے شبہ میں ایک مسلم ٹرک ڈرائیور کو ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ طور پر قتل کرنے کے سنسنی خیز معاملے میں انصاف کا بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ضلع نرمدا پورم کے علاقے سیونی مالوا کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے اس ہولناک ماب لنچنگ میں ملوث تمام 14 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سخت سزا سنائی ہے۔ عدلیہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ماب لنچنگ اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

یہ اندوہناک واقعہ تین اگست 2022 کی رات کو سیونی مالوا کے گاؤں باراکھڈ کے قریب پیش آیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق مہاراشٹر سے مویشی لے کر جانے والے ایک ٹرک کو رات کے تقریباً ایک بجے شرپسندوں کے ایک بڑے گروہ نے راستے میں زبردستی روک لیا۔ ہجوم نے غیر قانونی طور پر گائے لے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ٹرک کے ڈرائیور اور اس میں سوار دیگر دو افراد پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے وحشیانہ حملہ کر دیا۔ اس بہیمانہ تشدد میں مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کے رہائشی ٹرک ڈرائیور نظیر احمد شدید طور پر زخمی ہو گئے اور بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ٹرک میں سوار دیگر دو افراد مقامی لوگوں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے کسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔

اس خونی حملے میں زندہ بچ جانے والے دوسرے شخص شیخ لالا نے پولیس کو بتایا تھا کہ پچاس سے ساٹھ افراد پر مشتمل ہجوم نے اچانک سڑک بلاک کر دی تھی اور بغیر کچھ پوچھے یا تحقیق کیے ان پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ واقعے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ہجوم کو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے اور بے بس مسلمانوں پر لاٹھیاں برساتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ پولیس نے عوامی دباؤ اور شواہد کی بنیاد پر 14 نامزد ملزمان کے خلاف قتل، اقدامِ قتل، بلوہ رانی اور غیر قانونی طور پر راستہ روکنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ تقریباً تین سال تک چلنے والے طویل عدالتی ٹرائل کے بعد عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ یہ تمام چودہ افراد نظیر احمد کے قتل کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔

عدالت کی جانب سے عمر قید کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احاطے کے باہر شدید تناؤ اور ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ مجرمین کے رشتہ داروں اور سخت گیر نظریات کے حامل افراد نے فیصلے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ ان خواتین اور مردوں نے مجرمین کو جیل منتقل کرنے والی پولیس کی گاڑیوں کا راستہ روکنے کے لیے سڑک پر لیٹ کر ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید دھکم پیل بھی ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے اضافی نفری طلب کر کے صورتحال کو قابو میں کیا اور مجرمین کو سنٹرل جیل منتقل کیا۔

مجرم قرار دیے گئے افراد کے اہل خانہ نے میڈیا کے سامنے مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ ان کے بچے صرف گائے کی حفاظت کے لیے وہاں گئے تھے اور انہیں گائے بچانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم رہنماؤں نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مظلوم خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی فتح قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیف یا مویشی اسمگلنگ کے نام پر مسلم شہریوں کو قانون ہاتھ میں لے کر سرعام قتل کرنے کی بڑھتی ہوئی ذہنیت کے خلاف یہ فیصلہ ایک اہم نظیر ثابت ہوگا اور اس سے قانون کی بالادستی کا وقار بحال کرنے میں مدد ملے گی۔مدھیہ پردیش کی ایک مقامی عدالت نے سال 2022 میں گائے کی اسمگلنگ کے جھوٹے شبہ میں ایک مسلم ٹرک ڈرائیور کو ہجوم کے ہاتھوں بہیمانہ طور پر قتل کرنے کے سنسنی خیز معاملے میں انصاف کا بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ضلع نرمدا پورم کے علاقے سیونی مالوا کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے اس ہولناک ماب لنچنگ میں ملوث تمام 14 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سخت سزا سنائی ہے۔ عدلیہ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ماب لنچنگ اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

یہ اندوہناک واقعہ تین اگست 2022 کی رات کو سیونی مالوا کے گاؤں باراکھڈ کے قریب پیش آیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق مہاراشٹر سے مویشی لے کر جانے والے ایک ٹرک کو رات کے تقریباً ایک بجے شرپسندوں کے ایک بڑے گروہ نے راستے میں زبردستی روک لیا۔ ہجوم نے غیر قانونی طور پر گائے لے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ٹرک کے ڈرائیور اور اس میں سوار دیگر دو افراد پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے وحشیانہ حملہ کر دیا۔ اس بہیمانہ تشدد میں مہاراشٹر کے ضلع امراوتی کے رہائشی ٹرک ڈرائیور نظیر احمد شدید طور پر زخمی ہو گئے اور بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ٹرک میں سوار دیگر دو افراد مقامی لوگوں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے کسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے تھے۔

اس خونی حملے میں زندہ بچ جانے والے دوسرے شخص شیخ لالا نے پولیس کو بتایا تھا کہ پچاس سے ساٹھ افراد پر مشتمل ہجوم نے اچانک سڑک بلاک کر دی تھی اور بغیر کچھ پوچھے یا تحقیق کیے ان پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ واقعے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ہجوم کو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے اور بے بس مسلمانوں پر لاٹھیاں برساتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ پولیس نے عوامی دباؤ اور شواہد کی بنیاد پر 14 نامزد ملزمان کے خلاف قتل، اقدامِ قتل، بلوہ رانی اور غیر قانونی طور پر راستہ روکنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ تقریباً تین سال تک چلنے والے طویل عدالتی ٹرائل کے بعد عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ یہ تمام چودہ افراد نظیر احمد کے قتل کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔

عدالت کی جانب سے عمر قید کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احاطے کے باہر شدید تناؤ اور ڈرامائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ مجرمین کے رشتہ داروں اور سخت گیر نظریات کے حامل افراد نے فیصلے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ دائیں بازو کی تنظیموں سے وابستہ ان خواتین اور مردوں نے مجرمین کو جیل منتقل کرنے والی پولیس کی گاڑیوں کا راستہ روکنے کے لیے سڑک پر لیٹ کر ہنگامہ آرائی کی۔ پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان شدید دھکم پیل بھی ہوئی جس کے بعد انتظامیہ نے اضافی نفری طلب کر کے صورتحال کو قابو میں کیا اور مجرمین کو سنٹرل جیل منتقل کیا۔

مجرم قرار دیے گئے افراد کے اہل خانہ نے میڈیا کے سامنے مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ ان کے بچے صرف گائے کی حفاظت کے لیے وہاں گئے تھے اور انہیں گائے بچانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور مسلم رہنماؤں نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مظلوم خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی فتح قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بیف یا مویشی اسمگلنگ کے نام پر مسلم شہریوں کو قانون ہاتھ میں لے کر سرعام قتل کرنے کی بڑھتی ہوئی ذہنیت کے خلاف یہ فیصلہ ایک اہم نظیر ثابت ہوگا اور اس سے قانون کی بالادستی کا وقار بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

شیئر کریں۔