آسام میں بالغوں کے لیے آدھار کارڈ کے قوانین سخت، غیر قانونی دراندازی روکنے کے نام پر نئی پابندیاں عائد

آسام حکومت نے ریاست میں غیر قانونی دراندازی پر روک لگانے کے نام پر ایک بڑا اور سخت فیصلہ لیتے ہوئے 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو عام طریقہ کار کے تحت آدھار کارڈ جاری کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ہفتہ کے روز ریاستی کابینہ کی میٹنگ کے بعد اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ حکومت کے اس اقدام سے ریاست میں بسنے والی مختلف برادریوں، خصوصاً سرحدی اور پسماندہ علاقوں کے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ آدھار کارڈ موجودہ دور میں تمام بنیادی سرکاری خدمات اور شناخت کا سب سے اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

ریاستی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اب 18 سال سے زیادہ عمر کے کسی بھی فرد کو معمول کے مطابق آدھار کارڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ خصوصی حالات میں اگر کسی بالغ کو آدھار کارڈ کی ضرورت ہوگی، تو اسے متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر یعنی ڈی سی سے رجوع کرنا ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ریاستی حکومت کو اپنی رپورٹ اور تجویز بھیجے گی، جس کے بعد حکومت کی حتمی اجازت ملنے پر ہی آدھار کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کا کہنا ہے کہ ریاست کے کچھ اضلاع میں آدھار کوریج 100 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جو حکومت کے لیے باعثِ تشویش ہے اور اس بات کی تحقیقات ضروری ہیں کہ یہ اضافی کارڈ کن لوگوں کو جاری ہوئے ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ چائے باغان برادری اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے افراد کو فی الحال اس سخت قانون سے عارضی چھوٹ دی گئی ہے، کیونکہ ان برادریوں میں اب بھی ایک بڑی تعداد آدھار کارڈ سے محروم ہے۔ تاہم، یہ چھوٹ بھی مستقل نہیں ہے اور یکم اپریل 2027 سے ان برادریوں کے بالغ افراد پر بھی یہ پابندی مکمل طور پر لاگو ہو جائے گی۔ دوسری جانب، 18 سال سے کم عمر کے بچوں اور نوعمروں کے لیے آدھار کارڈ جاری کرنے کا عمل پہلے کی طرح برقرار رہے گا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دراندازی روکنے کے نام پر کیے جانے والے ایسے اقدامات سے اکثر اوقات غریب، ناخواندہ اور پسماندہ طبقات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دستاویزات کی معمولی غلطیوں یا بیداری کی کمی کی وجہ سے جائز شہریوں کو بھی اپنی شہریت اور شناخت ثابت کرنے کے لیے طویل قانونی اور انتظامی چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں بنیادی شناختی دستاویزات تک رسائی کو اس حد تک پیچیدہ بنانا شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، آسام حکومت گزشتہ طویل عرصے سے دراندازی کے معاملے پر سخت قوانین وضع کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے گزشتہ برس ہی اشارہ دے دیا تھا کہ بالغوں کے لیے آدھار کارڈ کے حصول کو مزید مشکل بنایا جائے گا۔ اب اس فیصلے کے نفاذ کے بعد ریاستی انتظامیہ اور ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں، اور آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس نئے طریقہ کار سے عام شہریوں کو کن انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس پر کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔

شیئر کریں۔