’آسام میں بیوہ مسلم خاتون اور نابالغ بچے کی حراست پر بی جے پی حکومت گھری

آسام کے ضلع گوالپارہ میں مسلم اسکولی بچوں کے خلاف انتظامیہ کی مبینہ یکطرفہ کارروائی اور ایک بیوہ خاتون کی گرفتاری پر ملک کی سیاسی اور سماجی فضا گرم ہو گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر سید ناصر حسین نے اس معاملے پر آسام کی بیجے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق گوالپارہ کے ایک اسکول میں بچوں کی طرف سے لائے گئے کھانے کے تنازعہ پر پانچ مسلم طلباء کو اسکول سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ایک نابالغ بچے کو پولیس نے حراست میں لیا اور ایک طالب علم کی بیوہ ماں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کانگریس ایم پی نے اس کارروائی کو اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، خوف اور پولرائزیشن کی سیاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے چائلڈ رائٹس کمیشن سے فوری مداخلت کی مانگ کی ہے۔

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں آسام حکومت کی انتظامی اور پولیس کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں اب اسکولی بچوں کو بھی خوف، امتیاز اور نفرت کے ماحول کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ کانگریس رہنما نے اصرار کیا کہ تعلیمی اداروں کا مقصد بچوں کی ذہنی نشوونما اور ان کی تربیت کرنا ہے، نہ کہ انہیں تعصب، اخراج اور سیاسی مہم جوئی کا اکھاڑا بنانا۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ اسکول کے ایک معمولی اور اندرونی معاملے کو اتنا طول کیوں دیا گیا کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔

رکن پارلیمنٹ نے گوالپارہ پولیس اور اسکول انتظامیہ کے غیر متناسب اقدامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسکول سے جڑے ایک معاملے میں کسی نابالغ بچے کو حراست میں رکھنے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پورا معاملہ معصوم بچوں کے درمیان کا تھا، تو ایک بیوہ خاتون کو کس قانون کے تحت سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا۔ ناصر حسین نے پانچ مسلم طلباء کو اسکول سے نکالنے کی کوششوں کی بھی سخت مخالفت کی اور یاد دلایا کہ تعلیم حاصل کرنا ملک کے ہر بچے کا آئینی اور بنیادی حق ہے، جسے کسی بھی صورت میں اور کسی بھی بہانے سے نہیں چھینا جا سکتا۔

کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ کوئی اکیلا معاملہ نہیں ہے بلکہ آسام کی موجودہ حکومت کے تحت اقلیتی برادریوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے اسے بی جے پی کی تقسیم کار، نفرت اور تعصب پر مبنی سیاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ کسی بھی معصوم بچے کو اس قسم کی مذہبی پولرائزیشن کا شکار نہیں بننے دیا جا سکتا۔ انہوں نے ریاستی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سید ناصر حسین نے ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری اداروں اور اطفال بہبود کے اداروں سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے قومی کمیشن برائے خواتین (NCW)، قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (NCPCR) اور آسام کی فلاح و بہبود کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوالپارہ واقعے کا فوری نوٹس لیں، بچوں اور بیوہ خاتون کے حقوق کا تحفظ کریں اور اس غیر قانونی اقدام کے ذمہ دار افسران کا احتساب یقینی بنائیں۔ اس واقعے کے بعد آسام میں انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔

شیئر کریں۔