اتر پردیش میں ریلوے پروٹیکشن فورس اور جی آر پی پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، چلتی ٹرین سے دھکیل کر ہلاک کیے گئے مسلم اسکالر مولانا توصیف رضا کے قتل کے سنسنی خیز معاملے کو دو ماہ بعد حل کر لیا ہے۔ پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے ملوث مرکزی ملزم پنکج راجپوت کو مراد آباد سے گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری ریاست بہار سے برآمد ہونے والے ایک اہم ویڈیو کلپ اور جدید تکنیکی تفتیش (سرویلنس) کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔ مقتول مولانا توصیف رضا کے قتل کا یہ لرزہ خیز واقعہ رواں سال ۲۶؍ اپریل کو پیش آیا تھا، جس کے بعد مسلم کمیونٹی اور حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔
دستیاب معلومات کے مطابق، مولانا توصیف رضا بریلی میں مشہور عرس کی تقریب میں شرکت کے بعد ٹرین کے ذریعے بہار کے ضلع کشن گنج میں واقع اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ سفر کے دوران، کینٹ تھانہ علاقے کے حدود میں ٹرین کے اندر ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا اور انہیں چلتی ٹرین سے نیچے دھکیل دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد متوفی کی بیوہ اور اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت پر جی آر پی نے تفتیش کا آغاز کیا۔ پولیس ٹیموں نے بریلی سے بہار جانے والے متعدد مسافروں سے پوچھ گچھ کی اور کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کی۔ اس دوران کشن گنج کے مسافروں سے ملا ایک ویڈیو کلپ سب سے بڑا سراغ ثابت ہوا، جس سے ملزم کے چہرے کی تصدیق ہوئی۔ انسپکٹر سشیل کمار ورما نے بتایا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ مراد آباد نے ملزم کی گرفتاری پر ۱۰؍ ہزار روپے کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا تھا، جسے بالآخر ایک مخبر کی اطلاع پر دھر دبوچا گیا۔
پولیس حراست میں ہونے والی پوچھ گچھ کے دوران ملزم پنکج راجپوت نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے روز وہ مراد آباد سے بریلی اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ اس نے شدید نشہ کر رکھا تھا اور غنودگی کے باعث وہ اپنے اسٹیشن بریلی پر نہیں اتر سکا اور ٹرین میں آگے نکل گیا۔ اسی دوران اس کا ٹرین کی بوگی میں سفر کر رہے مولانا توصیف رضا سے معمولی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ ملزم نے بدنیتی اور تعصب کے تحت مولانا پر موبائل چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ شروع کر دی۔ وحشیانہ حملے کے بعد ملزم نے مولانا کو چلتی ٹرین کے دروازے سے نیچے مٹی میں دھکیل دیا۔ واقعے کے وقت جب بوگی میں موجود دیگر مسافروں نے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو اس نے کمالِ عیاری سے جھوٹ بولا کہ وہ مولانا کا دوست ہے اور انہیں بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاہجہاں پور اسٹیشن پر ٹرین رکتے ہی فرار ہو گیا اور روپوش ہو کر مراد آباد پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور مسافروں کے تحفظ پر اٹھنے والا ایک بڑا سوالیہ نشان تھا، جس پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے اس واقعے کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اتر پردیش پولیس اور ریلوے انتظامیہ سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں پولیس متحرک ہوئی۔ مولانا کی بیوہ نے پولیس کی اس کارروائی کی ستائش کی ہے، تاہم انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے گھر کے واحد کفیل کی موت کے بعد ان کا خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہے، اس لیے حکومت انہیں مناسب معاوضہ فراہم کرے اور مقدمے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلا کر قاتل کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف چارج شیٹ تیار کر کے سخت ترین دفعات کے تحت عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔




