آسام : بچہ کی ٹفن میں گوشت ! مسلم طالب علم کی بیوہ ماں گرفتار، 5 طلبہ کو اسکول سے نکالنے کی تیاری

آسام کے ضلع گوالپارہ سے ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول میں ٹفن شیئر کرنے کے معمولی واقعے نے شدید فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اسکول کے پانچ مسلم طلبہ کو اسکول سے خارج کیے جانے کا سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں ایک مسلم طالب علم کی بیوہ ماں کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ پورا تنازع اس وقت شروع ہوا جب ۵ جون کو اسکول کے ایک مسلم طالب علم پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے ٹفن بکس میں گائے کا گوشت (بیف) لایا تھا اور اس نے یہ کھانا اپنے دو ہندو ہم جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق جب ہندو طلبہ نے اپنے گھر والوں کو اس بات کی اطلاع دی تو معاملے نے دیکھتے ہی دیکھتے طول پکڑ لیا۔ ہندو تنظیموں اور والدین کی جانب سے دباؤ کے بعد پولیس میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی گئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نابالغ مسلم لڑکے کو حراست میں لے کر جووینائل کورٹ میں پیش کیا، جبکہ اس کی بیوہ ماں کو، جو ایک مقامی سیلف ہیلپ گروپ میں کام کرتی ہے، گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے دونوں کے خلاف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے ابتدا میں اس معاملے کو اندرونی طور پر حل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن مقامی دائیں بازو کی تنظیموں اور کمیونٹی گروپس کی مداخلت کے بعد یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔

اسکول مینجمنٹ ڈیولپمنٹ کمیٹی (SMDC) کے صدر سببرتا داس نے میڈیا کو بتایا کہ اسکول کے عہدیداروں، ایس ایم ڈی سی ممبران اور مقامی گروپوں کے درمیان منعقدہ ایک مشترکہ اجلاس میں اکثریتی رائے مسلم طلبہ کو اسکول سے خارج کرنے کے حق میں آئی ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ منگل کے روز ہونے والے ایک اہم اجلاس میں متوقع ہے، جبکہ پولیس اس سلسلے میں دیگر چار مسلم طلبہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ دوسری طرف آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (AASU) کے رہنما منیدول اسلام نے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے معمول کے مطابق آپس میں کھانا شیئر کر رہے تھے اور جب ہندو بچوں نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو بات چیت کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جا سکے۔

واقعے کے بعد علاقے میں پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے کے لیے گوالپارہ کے ڈسٹرکٹ کمشنر پردیپ تمنگ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نوبنیت مہانتا نے اسکول کا دورہ کیا۔ ڈسٹرکٹ کمشنر نے معاملے کی مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی اسکولوں کے ٹفن کے لیے نئی گائیڈ لائنز تجویز کی ہیں، جس کے تحت اسکولوں میں مچھلی اور گوشت لانے پر پابندی عائد کرنے اور صرف انڈے کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر طلبہ کو صرف سبزی خور کھانا لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے رہنما منیدول اسلام نے طلبہ کے اخراج کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے اور انتظامیہ کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

واضح رہے کہ آسام میں گائے کے گوشت اور مویشیوں کے حوالے سے تنازعات کی ایک طویل تاریخ رہی ہے اور ڈیٹا کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اس نوعیت کے متعدد پرتشدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ آسام حکومت نے دسمبر ۲۰۲۴ میں ایک قانون کے تحت عوامی مقامات پر گائے کے گوشت کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسکولی بچوں کے درمیان کھانے کے لین دین جیسے معصومانہ معاملے کو بنیاد بنا کر ایک بیوہ خاتون کی گرفتاری اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگانا سراسر ناانصافی ہے اور اس سے ریاست میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے متعصبانہ رویوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

شیئر کریں۔