راجستھان کے دارالحکومت جے پور کے علاقے مالویہ نگر میں اتوار کے روز انتظامیہ نے ایک بڑی یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ۴۴ سال قدیم ‘نورانی مسجد’ کو سڑک کی چوڑائی بڑھانے کے منصوبے کے نام پر شہید کر دیا ہے۔ جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (JDA) کی جانب سے کی جانے والی اس حساس کارروائی کے دوران علاقے میں کسی بھی ممکنہ احتجاج یا عوامی ردِعمل کو کچلنے کے لیے تین ہزار سے زائد مسلح پولیس اہلکاروں اور نیم عسکری دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے افواہوں کو روکنے کا بہانہ بنا کر مالویہ نگر اور اس کے آس پاس کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ۲۴ گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر معطل کر دیا اور پولیس نے مقامی گلیوں میں فلیگ مارچ کیا تاکہ شہریوں میں خوف و ہراس قائم کر کے کارروائی کو بلا تعطل مکمل کیا جا سکے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ تاریخی مسجد ۱۹۸۱ میں تقریباً ۳۹۱ مربع گز زمین پر تعمیر کی گئی تھی، جہاں گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے باقاعدگی کے ساتھ پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کے اجتماعات منعقد ہو رہے تھے۔ جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس آپریشن کے دوران نورانی مسجد کے ساتھ ساتھ ایک قدیم مزار، دو چھوٹے مندروں اور ایک ست سنگ بھون کو بھی تجاوزات کے خاتمے کی مہم کے دوسرے مرحلے کے تحت زمین بوس کر دیا۔ اگرچہ انتظامیہ اسے ایک عام ترقیاتی منصوبہ قرار دے رہی ہے، لیکن مسلم کمیونٹی کے حقوق اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے کام کرنے والی مقامی تنظیموں نے اس کارروائی کے وقت اور طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مسجد انتظامیہ کمیٹی نے جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی نیت اور کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں مسجد کی شہادت کا باقاعدہ نوٹس جمعہ کی رات دیر گئے موصول ہوا تھا، جس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو عدالتیں بند ہونے کی وجہ سے انہیں اس ناانصافی کے خلاف کسی بھی قسم کا قانونی راستہ اختیار کرنے یا حکمِ امتناع حاصل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ یہ زمین جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے قانونی طور پر خریدی گئی تھی اور اس کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں، لہٰذا چالیس سال سے زائد عرصے سے قائم ایک قانونی عبادت گاہ کو اچانک غیر قانونی قرار دے کر گرا دینا سراسر ناانصافی اور کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
دوسری طرف جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے اپنے مؤقف میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسجد سڑک کی توسیع کے راستے میں رکاوٹ بن رہی تھی، جس کی وجہ سے اس علاقے میں طویل عرصے سے ٹریفک کا شدید بحران پیدا ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے متاثر ہونے والی کل ۱۴۳ املاک کو پہلے ہی نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں سے ۱۳۴ ڈھانچوں کو مئی کے مہینے میں ہی ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ مذہبی مقامات پر مشتمل بقیہ املاک کو اس موجودہ مرحلے میں ہٹایا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مسجد کمیٹی کو دلاسہ دینے اور معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کھو ناگوریان کے علاقے میں متبادل کے طور پر ۱۱۰۰ مربع گز زمین فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ تاریخی اور مرکزی مقام پر واقع مسجد کا متبادل دور دراز علاقے میں دینا ان کے مذہبی جذبات کا مداوا نہیں کر سکتا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ممبئی کے باندرہ علاقے میں بھی ایک مسجد کے خلاف اسی قسم کی تجاوزات مخالف مہم کے دوران پولیس اور مقامی آبادی کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بی جے پی مقتول ریاستوں میں ترقیاتی منصوبوں اور انسدادِ تجاوزات کے نام پر مسلم اقلیت کی عبادت گاہوں اور املاک کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جے پور کی مسلم قیادت نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس ہائپر ٹیکنیکل بیوروکریسی کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا عزم بھی دہرایا ہے۔




