کرناٹک کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے جہاں کانگریس کے سینئر رہنما ڈی کے شیوکمار نے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی اس باوقار تقریب کے فوراً بعد نئے وزیر اعلیٰ نے ودھانا سودھا میں اپنی پہلی کابینہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں عوام دوستی پر مبنی چھ انتہائی اہم اور تاریخی فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان فیصلوں کا بنیادی محور طلباء، بے روزگار نوجوان، جائیداد کے مالکان اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہیں۔ کابینہ میں زیادہ تر پرانے اور تجربہ کار چہروں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ صرف دو نئے وزراء کو کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ انتظامی استحکام برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کابینہ کے فیصلوں کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی حکومت ذاتی یا سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر ریاست میں گڈ گورننس اور ترقی کے ایک نئے دور کی شروعات کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کے کٹھن سیاسی سفر اور تہاڑ جیل کی قید کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے عوامی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں لیکن وہ ہمیشہ سچائی پر قائم رہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ کرناٹک کے عوام کی امانت ہے اور ان کے پیشرو سدارامیا نے اپنا سیاسی وعدہ پورا کرتے ہوئے وزارتِ اعلیٰ کی ذمہ داری انہیں سونپی ہے۔ نئی حکومت دیہی اور شہری علاقوں کی یکساں ترقی اور مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کر کے دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت کو روکنے کے لیے ایک مربوط ٹیم کی طرح کام کرے گی۔
نئی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے تحت پہلا بڑا تحفہ طلباء کو دیتے ہوئے نجی اور سرکاری دونوں تعلیمی اداروں کے تمام طلباء کے لیے مفت بس پاس کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایس ایس ایل سی، پی یو سی، انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطحوں کے طلباء کو مفت سفر کی سہولت ملے گی، جس پر حکومت کو سالانہ 250 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے ایک منفرد ‘پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج سسٹم’ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں نجی کمپنیاں اپنی اسامیوں کا اندراج کریں گی اور حکومت نوجوانوں کو انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق تربیت فراہم کر کے ملازمت دلانے میں مدد کرے گی۔ اس کے لیے تین وزراء پر مشتمل کمیٹی ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی، جس میں کنڑ باشندوں کے لیے ملازمتوں میں ترجیح کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ گرام پنچایت کی سطح پر 10 ہزار ‘بھارت جوڑو یووا سنگھ’ قائم کیے جائیں گے جن کے تحت نوجوانوں کو کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے فی ایسوسی ایشن 10 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
ریاست کے عام شہریوں اور جائیداد کے مالکان کو بڑی راحت دیتے ہوئے کابینہ نے بنگلورو کی حدود میں قبضے کے سرٹیفکیٹ (او سی) اور تکمیلی سرٹیفکیٹ (سی سی) کے قوانین میں نرمی کی حد کو 1,200 مربع فٹ سے بڑھا کر 2,500 مربع فٹ کر دیا ہے۔ یہ استثنیٰ ان عمارتوں پر لاگو ہوگا جنہوں نے منظور شدہ قوانین سے صرف 20 فیصد تک انحراف کیا ہے۔ اسی طرح جائیداد کے ریکارڈ کو درست اور قانونی بنانے کے لیے پوری ریاست میں ‘بی کھاتہ’ جائیدادوں کو ‘اے کھاتہ’ جائیدادوں میں تبدیل کرنے کی وسیع مہم شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے لاکھوں مکان مالکان کو فائدہ پہنچے گا۔ چھٹے بڑے فیصلے کے طور پر، سلیکون سٹی بنگلورو کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے اور ٹریفک کے مسائل سے نجات دلانے کے لیے گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کے علاقوں سمیت پورے شہر کی سڑکوں کی مرمت کے لیے 2,000 کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔
وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈی کے شیوکمار کی جانب سے کیے گئے یہ ابتدائی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت اپنی عوامی مقبولیت کو برقرار رکھنے اور ترقیاتی ایجنڈے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ ان فلاحی اسکیموں کے مالیاتی اثرات اور ان کے زمینی نفاذ کے حوالے سے آنے والے دنوں میں محکمہ خزانہ اور متعلقہ وزارتیں تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کریں گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئی حکومت کے ان اعلانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں ان فیصلوں کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔




