بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک کے نو منتخب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ودھان سودھا میں منعقدہ پہلی کابینہ میٹنگ کی صدارت کی اور ریاست کے عوام، بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ کے لیے کئی بڑے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ کے فیصلوں کی میڈیا کو تفصیلات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اسے کرناٹک میں ایک ‘نئے یوتھ دور’ کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت صرف وعدے کرنے پر نہیں بلکہ ان پر فوری عمل درآمد کرنے پر یقین رکھتی ہے اور گزشتہ چھ ماہ سے ان اسکیموں کا خاکہ تیار کیا جا رہا تھا۔
کابینہ کا سب سے پہلا اور بڑا فیصلہ ریاست کے تمام طلبہ کے لیے مفت بس پاس کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ طالب علم اکثر ان سے یہ سوال کرتے تھے کہ مفت سفر کی سہولت صرف خواتین کے لیے ہی کیوں ہے، اسی لیے حکومت نے اب تمام طلبہ کے لیے بھی مفت بس پاس کا دائرہ بڑھا دیا ہے، جس کے لیے طلبہ کو آن لائن درخواست دینی ہوگی۔ دوسرا بڑا فیصلہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے، جس کے تحت ریاست میں 56,000 خالی سرکاری اسامیاں جلد بھری جائیں گی اور اس کا شیڈول بھی فوری جاری ہوگا۔ اس کے علاوہ نجی شعبے میں مقامی کنڑ لوگوں کو روزگار دلانے کے لیے ایک ‘پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج’ قائم کیا جائے گا، جس کا تفصیلی فریم ورک ایک ماہ میں تیار ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے پروجیکٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ہر گرام پنچایت اور شہری وارڈوں میں ‘بھارت جوڑو یوتھ اسوسی ایشنز’ قائم کی جائیں گی۔ کل 10,000 اسوسی ایشنز بنیں گی جن میں سے ہر ایک کو کھیل، ثقافتی سرگرمیوں اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 10 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے مکان مالکان کو بڑی راحت دیتے ہوئے 2500 اسکوائر فٹ تک کے رہائشی مکانات کے لیے او سی (Occupancy Certificate) اور سی سی (Completion Certificate) کے قوانین میں 20 فیصد تک کی یکمشت چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ مزید بنگلورو کے ‘بی کھاتہ’ جائیدادوں کو ‘اے کھاتہ’ میں تبدیل کرنے کی اسکیم کو اب حکومت کی ‘چھٹی گارنٹی’ کے طور پر پورے کرناٹک میں نافذ کیا جائے گا۔ بنگلورو شہر کا بنیادی ڈھانچہ سدھارنے کے لیے کابینہ نے سڑکوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے 2,000 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری بھی دی ہے، جس کا کام اگلے تین سے چار ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ جب صحافیوں نے ان اسکیموں پر آنے والے بھاری مالی اخراجات کے بارے میں سوال کیا تو ڈی کے شیوکمار نے پرعزم انداز میں جواب دیا کہ یہ ڈی کے شیوکمار کی حکومت ہے، ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے لیے کچھ بھی خرچ کرنے کو تیار ہیں۔




