محمد امین نواز
کرناٹک کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم اور یادگار لمحے میں ڈی کے شیو کمار نے بحیثیت چیف منسٹرِ کرناٹک عہدۂ وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ بنگلورو میں منعقدہ اس باوقار تقریبِ حلف برداری میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، رندیپ سنگھ سرجے والا، کے سی وینو گوپال ، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، سینئر کانگریسی قائدین اور ہزاروں کارکنان شریک تھے۔ تقریب کے دوران ڈی کے شیو کمار نے ریاست کی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور عوامی فلاح کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ جن اہم قائدین نے بطور وزیر حلف لیا ان میں جی پرمیشور، ایم بی پاٹل، کے جے جارج، پرینک کھرگے، ستیش جارکی ہولی، رام لنگا ریڈی، دنیش گنڈو راؤ، ایشور کھنڈرے، کے ایچ منیپا، بائراتی سریش، کرشنا بائرے گوڑا اور دیگر سینئر رہنما شامل تھے۔ اس تقریب کو نہ صرف کانگریس کی سیاسی واپسی بلکہ کرناٹک میں ایک نئے سیاسی دور کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا گیا، جہاں پارٹی قیادت نے متحد ہوکر عوامی خدمت اور ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔
کرناٹک کی سیاست میں اگر کسی ایک شخصیت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی غیر معمولی سیاسی مہارت، تنظیمی صلاحیت، وفاداری اور اقتدار کے ایوانوں میں اثر و رسوخ کے ذریعے مستقل طور پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے تو وہ نام ڈی کے شیو کمار کا ہے۔ ڈی. کے. شیو کمار آج وہ نہ صرف ریاستی سیاست کے ایک طاقتور ستون کے طور پر ابھرے ہیں بلکہ کانگریس کی قومی قیادت کے نزدیک بھی ایک ایسے قائد کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں جو مشکل ترین حالات میں پارٹی کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈی کے شیو کمار کی پیدائش یکم مئی 1962 کو کرناٹک کے ضلع رام نگر کے قریب واقع دودا الاہلی گاؤں میں ایک کسان خاندان میں ہوئی۔ دیہی پس منظر رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، محنت اور عوامی روابط کے ذریعے اقتدار کی بلندیوں تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے بنگلورو کے آر سی کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے وہ سیاست میں سرگرم ہوگئے تھے اور نوجوان کانگریسی کارکن کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانے لگے تھے۔ ڈی کے شیو کمار کا عملی سیاسی سفر 1985 میں شروع ہوا جب انہوں نے پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات میں قسمت آزمائی کی، اگرچہ اس وقت انہیں کامیابی نہیں ملی۔ تاہم 1989 میں انہوں نے ستنور اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کرکے پہلی بار کرناٹک اسمبلی میں قدم رکھا۔ اس کے بعد ان کی سیاسی پیش قدمی کا سلسلہ رکا نہیں۔ وہ مسلسل آٹھ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں، جو ان کی عوامی مقبولیت اور مضبوط زمینی نیٹ ورک کا واضح ثبوت ہے۔ بعد کے ادوار میں حلقہ بندیوں کی تبدیلی کے بعد وہ کنکاپوراسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوتے رہے اور آج بھی اسی حلقہ سے ان کی سیاسی گرفت مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ وزارتی ذمہ داریوں کے اعتبار سے بھی ڈی کے شیو کمار کا سیاسی ریکارڈ خاصا وسیع اور متنوع رہا ہے۔ 1991-92 میں انہیں ہوم گارڈس اور جیل خانہ جات کی وزارت دی گئی۔ بعد ازاں 1999 سے 2004 تک شہری ترقیات کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں انہوں نے توانائی، آبی وسائل، میڈیکل ایجوکیشن اور دیگر اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 2013 سے 2018 تک وہ توانائی کے وزیر رہے، جبکہ 2018 میں کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد حکومت میں انہیں آبی وسائل اور میڈیکل ایجوکیشن جیسے کلیدی محکمے دیے گئے۔ 2023 میں وہ نائب وزیر اعلیٰ بھی بنے۔
اگر ان کی مالی حیثیت کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہندوستان کے امیر ترین سیاست دانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ 2023 کے انتخابی حلف نامہ کے مطابق ڈی کے شیو کمار اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 1413 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی گئی۔ ان کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ملک کے بااثر اور مالی طور پر مضبوط سیاست دانوں میں گنا جاتا ہے۔ تاہم ڈی کے شیو کمار کی اصل شناخت صرف ایک مالدار یا طاقتور سیاست دان کی نہیں بلکہ "کانگریس کے بحران شکن” قائد کی ہے۔ کانگریس پارٹی جب بھی سیاسی بحرانوں میں گھری، پارٹی قیادت نے اکثر ڈی کے شیو کمار پر اعتماد کیا۔ 2017 میں گجرات راجیہ سبھا انتخابات کے دوران جب کانگریس کو اپنے اراکین اسمبلی کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوا تو انہی ڈی کے شیو کمار نے گجرات کانگریس کے اراکین اسمبلی کو بنگلورو منتقل کرکے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح مہاراشٹر اور کرناٹک کی سیاسی جوڑ توڑ میں بھی وہ پارٹی کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ 2018 میں کرناٹک میں معلق اسمبلی وجود میں آنے کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اتحاد حکومت تشکیل دینے میں بھی ڈی کے شیو کمار کی حکمت عملی اور سیاسی رابطہ کاری نہایت اہم رہی۔ اس دور میں بی جے پی کی سیاسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے انہوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس ہائی کمان انہیں صرف ایک ریاستی لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ پارٹی کے “ٹربل شوٹر” کے طور پر دیکھتی رہی ہے۔ کانگریس کی مرکزی قیادت، خصوصاً سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے کے ساتھ ڈی کے شیو کمار کے تعلقات ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے پارٹی نہیں چھوڑی اور نہ ہی بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وفاداری ان کے سیاسی قد میں اضافے کا سبب بنی۔ جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور دیگر ایجنسیوں کی کارروائیوں کے سبب وہ مشکلات میں گھرے، تب بھی انہوں نے کھلے طور پر کہا کہ وہ کانگریس کے سپاہی ہیں اور پارٹی قیادت کے ہر فیصلے کو قبول کریں گے۔ کانگریس ہائی کمان نے بھی ہمیشہ ان کی سیاسی قربانیوں اور تنظیمی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ اسی اعتماد کے نتیجے میں 2020 میں انہیں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی یعنی کے پی سی سی کا صدر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 2020 سے 2026 تک اس عہدہ پر رہتے ہوئے پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے، کارکنوں کو متحرک بنانے اور بی جے پی کے خلاف مضبوط اپوزیشن کھڑی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی میں بھی ان کی تنظیمی صلاحیتوں کا بڑا حصہ مانا جاتا ہے۔
ڈی کے شیو کمار کی سیاسی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ وہ وقت سمجھا جاتا ہے جب انہوں نے ریاست میں کانگریس کو دوبارہ اقتدار تک پہنچانے کے لیے مسلسل محنت کی۔ ان کی جارحانہ انتخابی مہم، مضبوط مالی و تنظیمی انتظامات، کارکنوں سے قریبی تعلقات اور عوامی رابطہ مہم نے کانگریس کو نئی توانائی فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے حلقوں میں انہیں "کنک پور بندے” یعنی “کنک پور کی چٹان "کہا جاتا ہے۔ اب جبکہ وہ ریاست کی اعلیٰ ترین کرسی یعنی وزارتِ اعلیٰ تک پہنچ چکے ہیں تو سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا وہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چل سکیں گے؟ ۔ڈی کے شیو کمار ایک ایسے قائد ہیں جو زمینی سیاست کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہ ووکالیگا برادری کے بااثر لیڈر مانے جاتے ہیں، لیکن انہیں یہ بھی بخوبی احساس ہے کہ صرف ایک طبقہ یا برادری کے سہارے ریاستی سیاست میں طویل کامیابی ممکن نہیں۔ اسی لیے امکان یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ دلت، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور دیہی عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے۔
خصوصاً مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حوالے سے کانگریس کی روایتی سیاست کو مضبوط رکھنے کے لیے بھی ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی۔ ریاست میں بی جے پی اور ہندوتوا سیاست کے مقابلے میں سماجی ہم آہنگی، فرقہ وارانہ یکجہتی اور ترقیاتی سیاست کو فروغ دینا ان کی حکومت کا اہم امتحان ہوگا۔ تاہم ان کے سامنے چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج داخلی سیاسی توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ کانگریس کے اندر مختلف دھڑے اور طاقتور لیڈران موجود ہیں۔ وزارتوں کی تقسیم، علاقائی توازن، ذات برادری کی نمائندگی اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی توقعات کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ خاص طور پر سدارامیا کے حامی گروپ کے ساتھ بہتر تال میل برقرار رکھنا ان کے لیے ضروری ہوگا تاکہ حکومت کے اندر کسی قسم کی گروہ بندی شدت اختیار نہ کرے۔دوسرا بڑا چیلنج ریاست کی معیشت اور ترقیاتی منصوبوں کا ہوگا۔ کانگریس حکومت نے عوام سے متعدد فلاحی وعدے کیے ہیں، جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔ اگر ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے یا مالی بحران شدت اختیار کرگیا تو اپوزیشن کو حکومت پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا۔ بعض مواقع پر خود ڈی کے شیو کمار بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ مالی دباؤ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی طرح بدعنوانی کے الزامات اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے مقدمات بھی ان کے سیاسی سفر کا ایک حساس پہلو رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں یقیناً ان معاملات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گی۔ لہٰذا انہیں اپنی شبیہ کو شفاف، مضبوط اور عوام دوست ثابت کرنے کے لیے زیادہ محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ علاوہ ازیں، ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، بنگلورو جیسے عالمی شہر میں ٹریفک اور شہری سہولتوں کے مسائل، کسانوں کے مطالبات، بے روزگاری، پانی کی قلت اور علاقائی عدم توازن جیسے مسائل بھی ان کی حکومت کے لیے بڑے امتحانات ہوں گے۔کرناٹک چونکہ ملک کی آئی ٹی معیشت کا اہم مرکز ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ان کے لیے نہایت اہم ہوگا۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈی کے شیو کمار ایک ایسے قائد ہیں جو سخت حالات میں بھی پسپا ہونے کے بجائے زیادہ مضبوط ہوکر سامنے آئے۔ ان کی پوری سیاسی زندگی وفاداری، سیاسی جوڑ توڑ، تنظیمی صلاحیت اور اقتدار کے پیچیدہ کھیل کو سمجھنے کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ یہی خصوصیات انہیں دیگر علاقائی لیڈروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وہ ایک طاقتور تنظیمی لیڈر سے آگے بڑھ کر ایک کامیاب اور ہمہ گیر وزیر اعلیٰ ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ ریاست کے تمام طبقات کو اعتماد میں لینے، ترقی اور فلاح کے درمیان توازن قائم رکھنے اور پارٹی کے داخلی اختلافات کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہے تو وہ نہ صرف کرناٹک بلکہ قومی سیاست میں بھی کانگریس کے ایک بڑے ستون کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ لیکن اگر داخلی اختلافات، مالی بحران اور انتظامی کمزوریاں شدت اختیار کرتی ہیں تو ان کے لیے اقتدار کی یہ منزل بھی ایک کڑا امتحان ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ موجودہ ہندوستانی سیاست میں ڈی کے شیو کمار ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے سیاسی وفاداری، تنظیمی طاقت اور عملی سیاست کے امتزاج سے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس ہائی کمان آج بھی انہیں محض ایک ریاستی لیڈر نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی سپہ سالار کے طور پر دیکھتی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے لیے ڈھال بن سکتا ہے۔




