بھٹکل(فکروخبرنیوز) قومی شاہراہ 66 کی توسیع کے دوران زیرِ بحث آنے والا مورین کٹّے کا معاملہ اب حل کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ رکنِ پارلیمان ویشویشور ہیگڈے کاگیری نے اعلان کیا ہے کہ متعلقہ کٹّے کو اس کے سابقہ مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، جس کے لیے ضلعی اور مقامی انتظامیہ نے اصولی منظوری دے دی ہے۔
منگل کے روز بھٹکل میں کاگیری نے بتایا کہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھنے کے بعد متعلقہ حکام، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، پولیس اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں یہ متفقہ فیصلہ سامنے آیا۔
واضح رہے کہ شاہراہ کی توسیعی سرگرمیوں کے سبب مورین کٹّے کو اس کی پرانی جگہ سے متبادل مقام پر منتقل کیے جانے کے بعد تنازعہ جنم دیا تھا اورمعاملہ مقامی سطح پر موضوعِ بحث بن گیا تھا۔
رکنِ پارلیمان کے مطابق نئی منصوبہ بندی کے تحت کٹّے کو شاہراہ کے درمیانی حصے میں واقع ڈیوائیڈر کے اندر محفوظ انداز میں تعمیر کیا جائے گا۔ مجوزہ ڈھانچے کے لیے تقریباً 120 مربع فٹ جگہ مختص کی گئی ہے، جبکہ روشنی اور دیگر حفاظتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ مذہبی جذبات کے احترام کے ساتھ ٹریفک کی روانی اور عوامی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی اور قانونی تقاضوں کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے اور متعلقہ انجینئرنگ نقشہ جلد تیار کیے جانے کی توقع ہے، جس کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔
اس موقع پر سابق رکنِ اسمبلی سنیل نائک نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کٹّے سے متعلق پیش آئے ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہو اور بے گناہ افراد کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بی جے پی رہنما گووند نائک نے بھی اس موقع پر کہا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے تنازعات سے بچنے کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ علاقے میں امن، بھائی چارہ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہے۔
دریں اثنا پانچ جون کو بعض تنظیموں کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے حوالے سے سوال پر کاگیری نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری اور تنظیم کو اپنی رائے کے اظہار اور پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ قبل ازیں رکنِ پارلیمان اور دیگر ذمہ داران نے متنازع مقام کا دورہ کر کے صورتِ حال کا جائزہ بھی لیا۔




