آدابِ فرزندی اور عصرِ حاضر کا خاندانی بحران

علامہ اقبال کے فکری پس منظر میں موجودہ خاندانی بحران، اسکرین کلچر کے نقصانات اور حضرت اسماعیلؑ کے تربیتی ماڈل پر خصوصی اصلاحی مضمون۔

یاد رہے قومیں نہ عمارتوں سے بنتی ہیں، نہ ٹیکنالوجی سے، نہ وسائل سے، بلکہ زندہ کردار، مضبوط خاندانی نظام اور اخلاقی تربیت سے بنتی ہیں۔ جب ”فیضانِ نظر“ زندہ ہوتا ہے اور ”مکتب کی کرامت “موجود ہوتی ہے تو حضرت اسماعیلؑ جیسے کردار پیدا ہوتے ہیں، اور جب یہ دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں تو ترقی کے باوجود معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی اقبالؒ کا اصل پیغام ہے، اور یہی آج کے انسان کے لیے سب سے بڑا سوال بھی ہے جو ہر گھر، ہر والدین اور ہر نسل کے سامنے ایک خاموش امتحان کی طرح موجود ہے۔
(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ادارہ)

شیئر کریں۔