کرناٹک میں سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے ریاست سے راجیہ سبھا کی 4 اور قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 7 نشستوں کے لیے انتخابی شیڈول کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس اہم انتخابی عمل کا آغاز پیر کے روز ہوا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق تمام نشستوں کے لیے ووٹنگ 18 جون کو ریاستی اسمبلی کے احاطے ودھان سودھا میں منعقد کی جائے گی۔ اس انتخاب میں کرناٹک اسمبلی کے اراکین اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے نئے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
یہ انتخابات اس لیے ناگزیر ہوئے ہیں کیونکہ راجیہ سبھا کے 4 مقتدر اراکین کی مدت کار رواں ماہ 25 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ ان سبکدوش ہونے والے اراکین میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، سابق وزیر اعظم اور جے ڈی (ایس) کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارنّا کڈاڈی اور نارائن کورگپا شامل ہیں۔ دوسری جانب قانون ساز کونسل کی 7 نشستیں بھی 30 جون کو اراکین کی مدت ختم ہونے کے باعث خالی ہو رہی ہیں، جن میں کانگریس کے نصیر احمد، گووند راجو، ٹپنّاپّا اور بی کے ہری پرساد، جبکہ بی جے پی کے این ناگ راج، پرتاپ سمہا نائک اور سنیل والیاپور شامل ہیں۔
انتخابی شیڈول کے مطابق امیدواروں کے لیے نامزدگی کے پرچے داخل کرنے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد 9 جون کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امیدواروں کو اپنے نام واپس لینے کے لیے 11 جون تک کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ 18 جون کو صبح سے شام تک پولنگ ہوگی اور اسی دن شام کو ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
ریاستی اسمبلی میں موجودہ پارٹی پوزیشن اور اراکین کی عددی قوت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ برسرِ اقتدار کانگریس پارٹی انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کانگریس راجیہ سبھا کی 4 میں سے 3 نشستیں اور قانون ساز کونسل کی 7 میں سے 5 نشستیں آسانی سے اپنے نام کر سکتی ہے۔ اس صورتحال نے اپوزیشن کیمپ میں ہلچل مچا دی ہے اور اب تمام نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کا اتحاد اس انتخابی معرکے میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کوئی امیدوار میدان میں اتارتا ہے یا نہیں۔
انتخابات کے نتائج نہ صرف ریاست کی سیاسی فضا پر اثر انداز ہوں گے بلکہ ایوان بالا میں پارٹیوں کی طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اراکین اسمبلی کو متحد رکھنے اور جڑ توڑ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں کرناٹک کی سیاست میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔




