‘یہ غلطی نہیں سازش ہے’، سی بی ایس ای امتحانات میں خامیوں پر راہل گاندھی کی مودی حکومت پر کڑی تنقید

سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحانی نتائج میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر دھاندلی اور خامیوں کے بعد ملک بھر میں لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین شدید صدمے اور غصے میں ہیں۔ اس حساس معاملے پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روز مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے اسے ایک دانستہ سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک داغدار ماضی رکھنے والی کمپنی کو امتحانات کی جانچ کا ٹھیکہ دے کر تقریباً 18 لاکھ 50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

کانگریس رہنما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے نہ تو کوئی جواب دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی جوابدہی طے کی گئی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق جس کمپنی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے 2019 میں تلنگانہ میں بھی ایک مختلف نام کے ساتھ اسی طرح کا خامیوں بھرا نظام چلایا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اس کمپنی کی تاریخ سب کو معلوم تھی تو پھر کس کے حکم پر اور کن قواعد کو بالائے طاق رکھ کر اسے دوبارہ یہ ٹھیکہ دیا گیا۔

حکومت اور اس کمپنی کی انتظامیہ کے درمیان تعلقات پر سوال اٹھاتے ہوئے راہل گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے اسکام کے اصل ملزمان کو بے نقاب کرنے کے لیے فوری طور پر ایک آزادانہ عدالتی تحقیقات اور خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے۔ انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی اور اس بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر متاثرہ طلبہ کی جانب سے انصاف کے لیے دہائیاں دی جا رہی ہیں۔ نئے آن اسکرین مارکنگ سسٹم نے طلبہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ طلبہ کی شکایات ہیں کہ جوابی کاپیاں دھندلی اور ناقابل مطالعہ ہیں، ری ویلیوایشن پورٹل مسلسل کریش ہو رہا ہے، فیس کی ادائیگی ناکام ہو رہی ہے اور سسٹم ہیک ہونے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ری ویلیوایشن کے دوران بعض طلبہ کو کسی اور کی جوابی کاپیاں دکھائی جا رہی ہیں جس نے اس پورے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایک طالب علم تنمے کشیپ کی جانب سے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے نام لکھی گئی ایک جذباتی اپیل سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اس بحران کے تباہ کن اثرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ طالب علم نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک قریبی دوست نے کم نمبر آنے کے صدمے میں خودکشی کر لی ہے اور بہت سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کے داخلہ امتحانات جیسے نیٹ اور جے ای ای کے خواب ٹوٹنے کے خوف سے طلبہ کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام مضامین میں پندرہ سے بیس گریس مارکس دیے جائیں۔

یہ سنگین صورتحال ملک کے تعلیمی نظام اور امتحانی اداروں کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت کو گھیر لیا ہے، وہیں دوسری طرف لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں کہ ان کی سالوں کی محنت کو ایک تکنیکی یا دانستہ خامی کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای انتظامیہ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور اس مبینہ دھاندلی کی شفاف تحقیقات کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتے ہیں۔

شیئر کریں۔